گرین لینڈ میں گھر خریدا جا سکتا ہے لیکن زمین کیوں نہیں؟
گرین لینڈ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے امریکہ میں شامل کرنے کے بیانات دیے۔ اسی دوران ایک دلچسپ حقیقت سامنے آئی کہ کہ گرین لینڈ میں لوگ گھر تو خرید سکتے ہیں، لیکن اس گھر کے نیچے موجود زمین کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہو سکتی۔
حال ہی میں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر امریکا کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں کینیڈا اور گرین لینڈ کو بھی امریکی حدود میں دکھایا گیا۔ اس اقدام کے بعد گرین لینڈ کے عوام اور قیادت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی سرزمین کسی صورت فروخت کے لیے نہیں۔
گرین لینڈ کے قوانین کے مطابق تمام زمین عوام کی مشترکہ ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ اور اس کا انتظام سرکاری ادارے کرتے ہیں۔
یہاں کے قوانین کے تحت لوگ گھر، عمارت یا دیگر تعمیرات کے مالک بن سکتے ہیں مگر اصل زمین عوامی ملکیت رہتی ہے۔ اسی لیے اس جزیرے میں نہ عام شہری اور نہ ہی کوئی غیر ملکی زمین خرید سکتا ہے۔
اگر کوئی شخص گرین لینڈ میں گھر بنانا یا خریدنا چاہے تو اسے سرکار سے زمین کے استعمال کی اجازت لینی ہوتی ہے۔ اس اجازت کو ملکیت نہیں کہا جاتا بلکہ یہ صرف زمین استعمال کرنے کا حق ہوتا ہے، جو حکومت دیتی ہے۔
گرین لینڈ میں زمین کے استعمال کی اجازت مختلف مقاصد کے لیے حاصل کی جا سکتی ہے۔ کوئی بھی شخص گھر یا کسی اور عمارت کی تعمیر، پہلے سے موجود مکان میں توسیع، یا مکان خریدنے کے بعد زمین کے استعمال کا حق لینے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
اسی طرح گاڑیوں کی پارکنگ بنانے، دکان کو رہائشی مکان میں تبدیل کرنے، کشتی رکھنے، سیوریج اور پانی کی پائپ لائن بچھانے، چھوٹا کیبن یا جھونپڑی بنانے اور سیٹلائٹ ڈش نصب کرنے کے لیے بھی اجازت درکار ہوتی ہے۔
اگر کوئی شخص غیر ملکی ہو تو وہ براہِ راست گھر بھی نہیں خرید سکتا۔ اس کے لیے شرط ہے کہ وہ کم از کم دو سال گرین لینڈ میں رہ چکا ہو اور وہاں ٹیکس ادا کرتا ہو اور قانونی تقاضے پرے کرنے کے بعد ہی وہ گھر خریدنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے، لیکن زمین پھر بھی اس کی نہیں ہوتی۔
یہاں گھروں کی تقسیم خاندان کے افراد کی تعداد کے مطابق کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر خاندان میں چار افراد ہیں تو اسے عموماً چار کمروں کا فلیٹ دیا جاتا ہے۔
بڑے اور گنجان آباد شہروں، خاص طور پر دارالحکومت نوک میں گھروں کی شدید کمی ہے۔
نورڈک کوآپریشن کے مطابق گرین لینڈ میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں داخل ہونا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں اس وقت گھروں کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے باہر سے آنے والے افراد کے لیے کرائے پر رہائش حاصل کرنا خاصا مشکل ہو گیا ہے۔
یہاں سرکاری کرائے کے گھروں کے لیے کئی سال انتظار کرنا پڑتا ہے، بعض اوقات یہ مدت دس سے بارہ سال تک بھی ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان کے دفاتر یا کمپنیاں رہائش فراہم کرتی ہیں۔
زمین کے استعمال سے متعلق تمام درخواستیں مقامی بلدیہ میں جمع کرائی جاتی ہیں، جہاں حکام ہر درخواست کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا مطلوبہ استعمال قوانین اور منصوبہ بندی کے اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
گرین لینڈ کے عوام کا یہ ماننا ہے کہ زمین کسی ایک کی جائیداد نہیں بلکہ قدرت کی امانت ہے اوراسے بیچنے یا خریدنے کی اجازت دینا درست نہیں۔ اسی سوچ کی وجہ سے یہاں گھر کی ملکیت تو ممکن ہے، لیکن زمین ہمیشہ عوام کی مشترکہ ملکیت ہی رہتی ہے۔