بڑے ہوٹل کمروں کے واش رومز میں دروازے کیوں نہیں لگاتے؟
دنیا بھر کے کئی بڑے ہوٹلوں میں ایک عجیب اور پریشان کن ٹرینڈ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جہاں باتھ روم کے روایتی دروازے ختم کیے جا رہے ہیں۔ ٹھوس دروازوں کی جگہ اب سلائیڈنگ دروازے، پردے، یا حتیٰ کہ شیشے کے کیوبیکل استعمال کیے جا رہے ہیں، جس پر مہمانوں کی بڑی تعداد شدید ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی ہے۔
دی وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق آج کل بہت سے ہوٹلوں میں مہمان جب کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں مکمل بند ہونے والا مضبوط دروازہ نہیں ملتا۔
اس کی جگہ سلائیڈنگ لکڑی کے دروازے، شیشے کے پینل، پردے یا آدھی دیواریں لگا دی گئی ہیں، جو نہ آواز روک پاتی ہیں اور نہ ہی بدبو۔
کچھ ہوٹلوں نے تو حد ہی کر دی ہے، جہاں سنک اور شاور بیڈروم میں کھلے عام رکھے گئے ہیں اور ٹوائلٹ کو شیشے کے ایک ڈبے میں بند کر دیا گیا ہے۔
اس رجحان نے ان مسافروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جو سفر کے دوران سکون، پرائیویسی اور خاموشی کے خواہاں ہوتے ہیں۔
مہمانوں کا کہنا ہے کہ ایسے کمروں میں قیام کسی آزمائش سے کم نہیں، خاص طور پر جب وہ شریکِ حیات، دوست یا دفتر کے ساتھی کے ساتھ کمرہ شیئر کر رہے ہوں۔
لندن کے مختلف ہوٹلوں میں قیام کے دوران اسی قسم کے تجربات سے برہم سَیڈی لوویل نے ”Bring Back Doors“ نامی ویب سائٹ بنائی ہے، جہاں مختلف ہوٹلوں کو باتھ روم کی پرائیویسی کے حساب سے ریٹنگ دی جاتی ہے۔
اس ویب سائٹ پر ہوٹلوں کو ”مکمل دروازہ موجود ہے“ سے لے کر ”زیرو پرائیویسی“ تک درج کیا جاتا ہے۔
سَیڈی لوویل کا کہنا ہے کہ باتھ روم کا دروازہ کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے اور اسے ختم کرنا مہمانوں کی نجی زندگی پر حملہ ہے۔
دوسری جانب ہوٹل مالکان اس تبدیلی کو جدید ڈیزائن اور کم لاگت کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، کیونکہ دروازے، قبضے اور تالے دیکھ بھال کے اخراجات بڑھاتے ہیں۔
تاہم لوگ اس منطق سے متفق نہیں اور سوشل میڈیا پر کھل کر اپنی ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔
بہت سے مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ہوٹل بک کرتے وقت سب سے پہلا سوال یہی ہوگا: کیا باتھ روم کا دروازہ ہے یا نہیں؟
سوال اب یہ ہے کہ کیا ہوٹل مالکان مہمانوں کی آواز سنیں گے یا پھر آنے والے دنوں میں ہوٹل میں قیام کے ساتھ آئینہ، کانوں کے پلگ اور آنکھوں پر پٹی بھی لازمی سامان میں شامل ہو جائیں گے؟