شائع 22 جنوری 2026 09:50pm

راولپنڈی کی 163 عمارتوں میں صرف ایک کمرشل عمارت کے محفوظ ہونے کا انکشاف

راولپنڈی کی کمرشل عمارتیں بھی غیر محفوظ ہیں، شہر کی 163 عمارتوں میں صرف ایک کمرشل عمارت کے محفوظ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جب کہ ان عمارتوں میں سیفٹی آلات، ہنگامی راستے، دھوئیں کا اخراج اور خود کار نظام موجود ہی نہیں۔ دوسری جانب پنجاب کی تمام مارکیٹوں، عمارتوں، اسکولوں اور ہائر رائز بلڈنگز کا فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

کراچی سانحے کے بعد راولپنڈی کی کمرشل عمارتوں پر بھی خوفناک حادثات کے سائے منڈ لانے لگے ہیں، راولپنڈی میں مجموعی طور پر 163 کمرشل عمارتیں موجود ہیں جب کہ مکمل سیفٹی آلات صرف ایک عمارت میں موجود ہے۔

بی کیٹیگری میں 4، سی کیٹگری میں7 جب کہ ڈی کیٹیگری میں 151 عمارتیں شامل ہیں، 4 کمرشل عمارتوں کے پاس آگ بجھانے کا خود کار سسٹم اور دھوئیں کے اخراج کا کوئی نظام موجود نہیں جب کہ 7 کمرشل عمارتوں کے پاس داخلی راستہ، آگ بجھانے کا خود کار نظام اور دھوئیں کے اخراج کا نطام موجود نہیں۔ اس کے ساتھ 151 عمارتوں میں سیفٹی آلات، ہنگامی راستے، دھوئیں کا اخراج، خود کار نظام موجود نہیں۔

گزشتہ برس عمارتوں میں آگ لگنے کے 1712 واقعات رونما ہوئے۔ آتشزدگی کے واقعات میں 4 افراد جاں بحق اور 44 زخمی جب کہ 63 معمولی زخمی ہوئے تھے۔

فائر سیفٹی آلات کی عدم دستیابی پنجاب بلڈنگ سیفٹی ریگولیشنز کی خلاف ورزی ہے کمرشل عمارتوں کی تعمیر کے لیے این او سی ٹی ایم اے کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ ہنگامی راستوں کے حوالے سے سول ڈیفینس اور فائر سیفٹی کے حوالے سے ریسکیو راولپنڈی نگرانی کرتا ہے، فائر سیفٹی میکنزم نہ ہونے پر کمرشل عمارتوں کے مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

پنجاب میں بلڈنگ سیفٹی ایکٹ پر مکمل عملدرآمد کرانے کا حکم

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بلڈنگ سیفٹی ایکٹ پر مکمل عملدرآمد کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی عمارتوں، مارکیٹوں، پلازوں، اسپتالوں اور اسکولوں کو اب موت کے کنویں نہیں بننے دیا جائے گا، اب ہر عمارت محفوظ ہو گی۔

جمعرات کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبے بھر میں فائر سیفٹی کے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

پنجاب بھر میں تمام مارکیٹوں، عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور ہائر رائز بلڈنگز کا فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں صوبے میں فائر ڈرل کرانے، فائر سیفٹی حفاظتی ضوابط مکمل کرنے اور بلڈنگ سیفٹی ایکٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے فائر سیفٹی حفاظتی ضوابط مکمل کرنے کے لیے 2 ہفتے کی مہلت دے دی۔ اجلاس میں بلڈنگ سیفٹی ایکٹ پر عملدآرمد کے لئے پیرا فورس کو خصوصی اختیارات تفویض کرنے اور خصوصی سیل بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر صوبے بھر میں تمام عمارتوں میں داخلی اور خارجی راستے کلیئر رکھنا لازم قرارد دیا گیا ہے جب کہ تمام عمارتوں میں حفاظتی سائن ایج درست اور واضح ہونا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔

اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 کی نشاندہی پر جیو ٹیگڈ مقامات پر واسافائر ہائیڈرینٹس نصب کیے جائیں گے اور صوبہ بھر میں اہم مقامات کی جیو ٹیگنگ کی جائے گی۔ ریسکیو 1122 کو تھرمل اور جدید ڈرونز سے لیس کیا جائے گا، اور 2 ہفتوں کے اندر تمام عمارتوں میں ایکسٹرنل فائر ہائیڈرینٹس نصب کیے جائیں گے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ عمارتوں میں آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے ہمت کے ساتھ حکمت اور ٹیکنالوجی بھی ضروری ہے، عمارتی تحفظ یقینی بنانا ہوگا، عوام کی زندگی سے کھیلنے والوں کے لیے پنجاب میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پنجاب کی ہر تحصیل، مارکیٹ، عمارت، اسکول اور ہائر رائز بلڈنگ اب محفوظ ہوگی۔

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ فروری 2024 سے اب تک پنجاب بھر میں 9 لاکھ 94 ہزار 36 روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں۔

Read Comments