چکن یا مٹن: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کیا بہتر ہے؟
ذیابیطس آج کے دور کی تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماریوں میں شامل ہو چکی ہے۔ اگرچہ اس بیماری کا مکمل علاج ممکن نہیں اور نہ ہی اس سے چھٹکارا ممکن ہے، لیکن درست طرزِ زندگی اور متوازن غذا کے ذریعے اسے مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق شوگر کے مریضوں کے لیے خوراک کا انتخاب بے حد اہم ہوتا ہے۔ انہیں اپنی غذا کے معاملے میں خاص احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ معمولی لاپرواہی بھی بلڈ شوگر لیول میں اچانک اضافہ کر سکتی ہے، جس سے دل، گردوں اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جب جسم میں انسولین کی پیداوار کم ہو جائے یا انسولین مؤثر طریقے سے کام نہ کرے تو خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں۔
شوگر کے مریضوں کے لیے صرف میٹھا کم کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور پروٹین تینوں کا درست انتخاب ضروری ہے۔
ذیا بیطس کے کئی مریض نان ویجیٹیرین غذا خاص طور پر چکن اور مٹن کے بارے میں الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ کون سا زیادہ محفوظ ہےغیر سبزی خور غذا کھانے والے شوگر کے مریضوں میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چکن بہتر ہے یا مٹن؟
مٹن کو ریڈ میٹ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں آئرن، زنک اور وٹامن بی 12 وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اس میں سیر شدہ چکنائی بھی زیادہ ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ریڈ میٹ کا زیادہ استعمال انسولین ریزسٹنس بڑھا سکتا ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کو مٹن بالکل ترک نہیں کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر اسے محدود مقدار اور وقفے وقفے سے استعمال کرنا چاہیے۔
چکن کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ یہ پروٹین سے بھرپور، چکنائی میں کم اور کم گلیسیمک انڈیکس رکھتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ بلڈ شوگر کو اچانک نہیں بڑھاتا۔
ڈاکٹرز کے مطابق مناسب مقدار میں چکن کو روزمرہ غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
صرف گوشت کا انتخاب ہی نہیں، بلکہ اسے پکانے کا طریقہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ زیادہ تیل میں تلا ہوا یا مکھن، گھی اور کریم سے بھرپور کھانے شوگر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
اس کے برعکس اُبلا ہوا، گرل کیا ہوا یا ہلکے مصالحوں کے ساتھ پکایا گیا چکن زیادہ بہتر انتخاب ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ہر مریض کی جسمانی حالت اور شوگر لیول مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے کسی بھی غذا کے اثرات فرداً فرداً بدل سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے غذائی انتخاب میں اعتدال اور توازن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اپنی خوراک یا لائف اسٹائل میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا نیوٹریشنسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔