شائع 26 جنوری 2026 03:47pm

امریکی کوہ پیما نے تائیوان کی بلند ترین عمارت بغیر رسی کے سر کر لی

مشہور امریکی کوہ پیما الیکس ہونالڈ نے تائیوان کی سب سے بلند عمارت تائی پے 101 کو بغیر کسی رسی یا حفاظتی سامان کے کامیابی سے سر کر لیا۔ اس غیر معمولی کارنامے کو ہزاروں شائقین نے نیچے سے نعرے لگا کر اور ہاتھ ہلا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ 91 منٹ کی مہم تھی جسے نیٹ فلکس نے براہِ راست نشر کیا۔

عمارت کی چوٹی پر پہنچ کر ہونالڈ نے کہا، ”واہ، کیا منظر ہے!“ بعد میں صحافیوں سے بات چیت کی اور مختصر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ شاندار تھا اور اس طرح شہر کو اوپر سے دیکھنا ایک خوبصورت احساس ہے۔ انہوں نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ خراب موسم کے باعث یہ مہم ایک دن کے لیے مؤخر کی گئی تھی۔

508 میٹر بلند تائی پے 101، کئی برس تک دنیا کی بلند ترین عمارت رہی اور آج بھی تائیوان کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ اس چڑھائی کے لیے عمارت کی انتظامیہ اور شہر کی حکومت نے اجازت اورمکمل تعاون فراہم کیا تھا۔

ہونالڈ نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب انہوں نے بغیر اجازت چڑھنے کا سوچا، لیکن بعد میں عمارت اور اس سے جڑے لوگوں کے احترام میں ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

نیٹ فلکس کے ایگزیکٹو پروڈیوسر جیمز اسمتھ کے مطابق کسی بلند عمارت کا اس طرح ایک کوہ پیما پر اعتماد کرنا غیر معمولی بات ہے۔ ان کے بقول ’تائی پے 101‘ اس ملک کی ایک اہم علامت ہے اور اس واقعے نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔

تائیوان کے سیاست دانوں نے بھی اس موقع پر سوشل میڈیا کے ذریعے ہونالڈ اور نیٹ فلکس کا شکریہ ادا کیا۔

صدر لائی چنگ تے نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اس مہم کے ذریعے دنیا نے نہ صرف تائی پے 101 کو دیکھا بلکہ تائیوان کے لوگوں کی مہمان نوازی، جذبہ اور قدرتی خوبصورتی کو بھی محسوس کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب تائی پے 101 کو سر کیا گیا ہو۔ اس سے قبل 2004 میں فرانسیسی کوہ پیما ایلین رابرٹ نے بھی اس عمارت کو سر کیا تھا۔ تاہم اس وقت حفاظتی رسی استعمال کی گئی تھی اور انہیں چار گھنٹے لگے تھے۔

Read Comments