سانحہ گل پلازہ: شہدا کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری
کراچی کے ہولناک سانحہ گل پلازہ کو آج 11 روز ہوگئے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق 73 لاشوں کے باقیات کا میڈیکولیگل پروسس مکمل کرلیا گیا ہے جب کہ آج مزید 4 افراد کی شناخت مکمل ہوگئی ہے۔ سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دے دی۔ تفتیشی حکام نے تینوں اطراف کا جائزہ لے کرگل پلازہ کا اسکیچ تیار کرلیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازامیں متاثر ہونے والے دکانداروں کو 5،5 لاکھ روپے کچن اور یوٹیلیٹی اخراجات کے لیے کمشنر کے ذریعے ادا کیے جا رہے ہیں۔
سندھ کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلاسود قرض فراہم کرنے کی منظوری دی اور اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کریں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ قرضہ دکانداروں کے دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے، ایک کروڑ روپے پر واجب الادا سود حکومت سندھ ادا کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر کاروبار شروع کرنے کے لیے دکان کی سہولت فراہم کی جائے گی، ہم دکانداروں کے تحفظ اور سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازاپر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی سربراہی میں سب کمیٹی قائم کردی گئی، سب کمیٹی میں صوبائی وزرا، شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ضیاء الحسن لنجار شامل ہیں۔
سب کمیٹی کمشنر کراچی کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی، سب کمیٹی کمشنر کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی اور لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی.
سانحہ گل پلازہ میں مزید 3 لاشوں کی شناخت
کراچی کے ہولناک سانحہ گل پلازہ کو آج 11 روز ہوگئے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق 73 لاشوں کے باقیات کا میڈیکولیگل پروسس مکمل کرلیا گیا ہے جب کہ آج مزید 4 افراد کی شناخت مکمل کرلی، جن میں ایک خاتون کوثر پروین سمیت اشرف ، حسام محمد اور محمد عارف شامل ہیں جب کہ سانحے میں کل شناخت افراد کی تعداد 28 ہوچکی ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا ہے کہ 24 لاشوں کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوپائی ہے، ڈی این اے شناخت سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری، جامعہ کراچی میں کی گئی، گل پلازہ سانحے میں 65 لاپتہ افراد کے لیے 56 خاندانی نمونے حاصل کیے گئے ہیں جب کہ 42 افراد ایسے ہیں جن کی شناخت ممکن نہیں ہوپائے گی۔
اس وقت گل پلازہ کے اطراف عمارت کو کارٹن آف کردیا گیا ہے، صرف ورثاء اور دکانداروں کو سرچنگ کے لیے ریسکیو ٹیم کے ہمراہ جانے کی اجازت دی گئی ہے، گل پلازہ کے اطراف عمارتوں میں قائم دکانوں کو کھولنے کی اجازت بھی دی جاچکی ہے۔
گل پلازا میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام دوسرے روز بھی بند ہے، اطراف میں گرین شیڈ لگا دیے گئے ہیں، پولیس اور رینجرز اہلکار بھی تعینات ہیں جب کہ عمارت ایس بی سی اے کے حوالے کر دی گئی۔
تفتیشی حکام نے گل پلازہ کا اسکیچ تیار کرلیا
ادھر سانحۃ گل پلازہ کی تحقیقات کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ سٹی شعبہ تفتیش کے افسران نے متاثرہ عمارت کا دورہ کیا، جہاں حکام نے تینوں اطراف کا جائزہ لے کرگل پلازہ کا اسکیچ تیار کرلیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ سٹی شعبہ تفتیش کے افسران گل پلازہ پہنچے اور عمارت کا تینوں اطراف سے معائنہ کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سینئر افسران کی جانب سے گل پلازہ کا اسکیچ تیار کیا گیا جب کہ اسکیچ کے ذریعے سانحے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ فی الوقت تفتیشی ٹیم کو عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث متاثرہ عمارت کا جائزہ باہر سے لیا جا رہا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق گل پلازہ سانحے پر قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد تفتیشی عمل کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا اور بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ تیار کیے گئے اسکیچ میں دکان نمبر 193 کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ سٹی کی تفتیشی ٹیم نے بھی عمارت سے شواہد جمع کرلیے ہیں، فارنزک ٹیم بھی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے۔ شہید اور لاپتا افراد کا ڈیٹا مرتب کرنے کے لیے نادرا وین طلب کرلی گئی ہے، ڈی سی ساؤتھ کے دفترمیں متاثرین کی ایف آرسی تیارکی جارہی ہے۔