شائع 02 فروری 2026 10:37am

پاکستان میں سونے کی قیمت کیسے طے کی جاتی ہے، زیادہ قیمت پر کیسے بیچا جائے؟

پاکستان میں سونے کی قیمت روزانہ طے کی جاتی ہے اور زیور خریدتے یا بیچتے وقت ایک عام خریدار کو اکثر نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس نقصان سے بچے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو سونے کی قیمت کے تعین کا طریقہ کار اور مارکیٹ کا اندازہ ہو۔

سونے کے نرخ کا بنیادی تعلق عالمی مارکیٹ سے ہوتا ہے، جہاں سونا فی اونس امریکی ڈالر میں خریدا اور بیچا جاتا ہے۔

کراچی میں جیولرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سوسائٹی صدر عبد اللہ عبدالرزاق چاند نے آج ڈیجیٹل کو بتایا کہ ’اس کا ایک سادہ سا فارمولہ ہے، ایک اونس کا جو انٹرنیشنل ریٹ آتا ہے اسے ہم اس دن کے انٹربینک ڈالر ریٹ سے ضرب دیتے ہیں، اس طرح پاکستانی روپے میں اونس کے نرخ آجاتے ہیں۔ پھر اس کو ہم 31.100 سے تقسیم کرتے ہیں کیونکہ ایک اونس میں 31.100 گرام ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک گرام کے نرخ آجاتے ہیں۔ پھر اس گرام کے ریٹ کو ہم 11.664 سے ضرب دیتے ہیں تو ایک تولہ کا ریٹ نکل آتا ہے۔‘

مثال کے طور پر اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4703 ڈالر فی اونس ہو تو اسے 281.58 ضرب دیا جاتا ہے، پھر حاصل ہونے والے عدد یعنی ایک لاکھ 32 ہزار 271 کو 31.100 سے تقسیم کیا جائے گا، یوں ایک گرام کے نرخ 42 ہزار 581 روپے بنتے ہیں، پھر اس ریٹ کو 11.664 سے ضرب دینے پر فی تولہ کی قیمت حاصل ہوگی جو کہ 4 لاکھ 96 ہزار 666 روپے بنتی ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ بالا حساب صرف سمجھانے کے لیے دو فروری 2026 کے عالمی ریٹس سے لگایا گیا ہے۔ اس حساب میں ردوبدل کا امکان موجود ہے۔

اب دیکھیں تو اس پورے حساب کے بعد پاکستان میں فی تولہ 24 قیراط سونے کی سرکاری قیمت سامنے آتی ہے، جسے جیولرز بنیاد بنا کر خرید و فروخت کرتے ہیں۔ یہی حساب بعد میں زیور کی کٹوتی سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

جب کوئی شخص زیور بیچنے جاتا ہے تو اکثر صورتوں میں سنیارا زیور میں سے کچھ ماشے کاٹ لیتا ہے۔ اگر زیور اسی سنیارے سے بنوایا گیا ہو تو عام طور پر دو ماشے اور اگر کسی دوسرے سے بنوا کر لایا گیا ہو تو تین ماشے تک کٹوتی کی جا سکتی ہے۔

اس کٹوتی کو مختلف نام دیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ وزن کی کمی ہوتی ہے، جس کی مالیت ہزاروں روپے بنتی ہے۔

دوسری جانب زیور بنواتے وقت قیراط کا معاملہ سامنے آتا ہے۔

قیراط سونے کے خالص پن کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ 24 قیراط سونا تقریباً مکمل خالص سمجھا جاتا ہے، جبکہ 18 قیراط سونے میں 25 فیصد اور 15 قیراط میں اس سے بھی زیادہ ملاوٹ شامل ہوتی ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر جیولرز 18 یا 15 قیراط کا زیور بناتے ہیں، جبکہ 21 یا 22 قیراط زیور محدود پیمانے پر ہی دستیاب ہے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خریدار کو 18 یا 21 قیراط کا زیور دیا جاتا ہے، لیکن قیمت 24 قیراط سونے کے حساب سے وصول کی جاتی ہے۔ اس صورت میں خریدار کو اصل میں کم خالص سونا ملتا ہے، مگر ادائیگی مکمل تولے کے حساب سے کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ پالش یا ضائع ہونے کے نام پر ایک آدھ ماشے کی قیمت الگ سے بھی لی جا سکتا ہے، حالانکہ یہ سونا مکمل طور پر ضائع نہیں ہوتا بلکہ دوبارہ قابلِ استعمال بنا لیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مزدوری کے نام پر بھی چار سے پانچ ہزار روپے لیے جاتے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ زیور بنواتے وقت پہلے یہ طے کر لیا جائے کہ سونا کتنے قیراط کا ہوگا اور قیمت بھی اسی قیراط کے حساب سے دی جائے۔ اگر ممکن ہو تو زیور کو مشین پر چیک کروا لیا جائے تاکہ خالص پن کے بارے میں کوئی ابہام نہ رہے۔

اسی طرح زیور بیچتے وقت بہتر ہے کہ پہلے اسے ڈلی میں تبدیل کروا لیا جائے تاکہ ملاوٹ الگ ہو جائے اور خالص 24 قیراط سونا اس دن کے سرکاری ریٹ پر فروخت کیا جا سکے۔

یوں سونے کی قیمت کا پورا نظام عالمی منڈی، مقامی اخراجات، وزن، قیراط اور کاریگری سے جڑا ہوا ہے۔

ان بنیادی باتوں کو سمجھ کر عام خریدار یا فروخت کرنے والا بہتر فیصلہ کر سکتا ہے اور ممکنہ نقصان سے خود کو بچا سکتا ہے۔

Read Comments