بنگلہ دیش کے انتخابات اور ریفرنڈم پر ووٹنگ مکمل، نتائج سامنے آنا شروع

آج نئے بنگلہ دیش کی سالگرہ، آزادی اور خوابوں کے نئے آغاز کا دن ہے: سربراہ عبوری حکومت پروفیسر یونس
اپ ڈیٹ 12 فروری 2026 11:55pm

بنگلہ دیش میں جین زی انقلاب کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے، جس کے بعد اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے ملک بھر کے 300 میں سے 299 حلقوں میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا پر ابتدائی مرحلے میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج نشر ہونا شروع ہوچکے ہیں، جس کے مطابق اِس وقت تک بی این پی کو جماعت اسلامی پر برتری حاصل ہے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرا کی نشستوں پر بڑی لیڈ کے ساتھ آگے ہیں۔

جماعتِ اسلامی کی جانب سے بھی ابتدائی طور پر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار شفیق الرحمان سمیت 16 امیدواروں کی کامیابی کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

یہ بنگلہ دیش میں جین زی انقلاب کے بعد یہ پہلا الیکشن ہے۔ انتخابات کے لیے ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے تاہم اس دوران چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔

مقامی الیکشن کمیشن کے مطابق صبح ساڑھے 7 بجے شروع ہونے والی ووٹنگ 42 ہزار 659 پولنگ اسٹیشنز پر شفاف بیلٹ بکس کے ذریعے بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔ تاہم ایک حلقے میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار کے انتقال کے باعث انتخاب ملتوی کر دیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے سینئر سیکریٹری اختر احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دوپہر 2 بجے تک 36 ہزار 31 مراکز سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 47.91 فیصد رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر دوپہر تک شرح کم تھی لیکن بعد میں اس میں اضافہ دیکھا گیا۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 299 حلقوں میں مجموعی طور پر تقریباً 12 کروڑ 73 لاکھ 98 ہزار 522 افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے، جن میں 6 کروڑ 46 لاکھ 20 ہزار 77 مرد، 6 کروڑ 26 لاکھ 77 ہزار 232 خواتین اور ایک ہزار 213 خواجہ سرا ووٹر شامل تھے۔

انتخابات میں مجموعی طور پر 51 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا اور 2 ہزار 34 امیدوار میدان میں تھے، جن میں 275 آزاد امیدوار بھی شامل تھے۔ جب کہ حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

جمعرات کے روز ملک بھر میں انتخابات کے ساتھ آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم بھی ہوا، جس میں انتخابی ادوار کے دوران غیر جانبدار عبوری حکومت کے قیام، دو ایوانی پارلیمان، خواتین کی نمائندگی میں اضافہ، عدالتی خودمختاری کے فروغ اور وزیرِاعظم کے لیے دو مدتوں کی حد مقرر کرنے جیسی تجاویز شامل تھیں۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر کے نفاذ سے متعلق ریفرنڈم کی پُرامن، منظم اور پُرجوش ماحول میں ووٹنگ مکمل ہونے پر قوم کو دلی مبارکباد پیش کی۔

محمد یونس نے ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’آج نئے بنگلہ دیش کی سالگرہ ہے۔ یہ پورے ملک کے لیے خوشی کا لمحہ ہے۔ یہ آزادی اور خوابوں کے نئے آغاز کا دن ہے۔ انہوں نے اس دن کو عید سے تعبیر کرتے ہوئے عوام کو مبارکباد بھی دی۔

پروفیسر یونس نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر زور دیا کہ وہ حتمی نتائج کے اعلان کے بعد بھی جمہوری شائستگی، برداشت اور باہمی احترام کو برقرار رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ موجود رہے گا لیکن قومی مفاد میں ہمیں متحد رہنا ہوگا۔

بنگلہ دیش میں حکومت سازی کے لیے دو سابق اتحادی جماعتوں، بی این پی اور جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحادوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے انتخابات میں حصہ لیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو جین زی انقلاب سے جڑے نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل ہے، جو حالیہ سیاسی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کرنے والی نسل سمجھی جاتی ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں ایک اور بڑا انتخابی اتحاد متحرک نظر آیا جس نے حکومت سازی کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ اس اتحاد نے خود کو ملک میں استحکام اور سیاسی توازن کی علامت کے طور پر پیش کیا۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان اور جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان دونوں نے کامیابی کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

طارق رحمان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میں پُراعتماد ہوں کہ ہم یہ انتخاب جیتیں گے۔

شفیق الرحمان نے انتخابات کو بنگلہ دیش کے لیے ’ٹرننگ پوائنٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

ڈھاکا کے ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر جہاں طارق رحمان اور عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ووٹ کاسٹ کیا، گھڑ سوار پولیس اہلکار بھی گشت کرتے نظر آئے جن کے گھوڑوں پر لکھا تھا کہ ’پولیس موجود ہے، بے خوف ہو کر ووٹ دیں۔‘

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یاد رہے کہ جین زی انقلاب کے وقت حسینہ واجد ملک کی وزیراعظم تھیں جن کا تختہ پلٹ دیا گیا تھا اور وہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔

عوامی لیگ پر عائد پابندی نے انتخابی مقابلے کی نوعیت کو بدل دیا ہے اور سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

جین زی انقلاب کے بعد نوجوان ووٹرز کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے اور وہ نئی قیادت سے شفاف طرز حکمرانی اور معاشی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ پولنگ کے بعد عوام اور سیاسی جماعتوں کو اب نتائج کا انتظار ہے جو ملک کا نیا منظرنامہ ترتیب دیں گے۔

Read Comments