کراچی حیدر آباد موٹروے پر مسافر بس، ٹینکر اور متعدد گاڑیوں میں تصادم، 13 افراد جاں بحق
کراچی حیدرآباد ایم نائن موٹروے پر آئل ٹینکر اور مسافر بس سمیت متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں، جس کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جب کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں۔
جمعے کو کراچی سے 60 کلومیٹر دور کاٹھور کے قریب ایم نائن موٹروے پر ہولناک ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں قائد آباد سے موٹر وے پر رانگ وے سے آنے والی مسافر بس آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی اور تیز رفتار آئل ٹینکر بھی کئی گاڑیوں سے ٹکرا گیا۔
عینی شاہد کے مطابق کاٹھور ایم نائن موٹر وے انصاری پل پر حادثہ اس وقت پیش آیا، جب کراچی سے سانگھڑ جانے والی مسافر بس کے ڈرائیور نے رانگ سائڈ ڈرائیونگ کی کوشش کی اور وہ عین انصاری پل پہنچا تو حیدر آباد سے کراچی جانے والے آئل ٹینکر سے ٹکرا گیا، جس سے آئل ٹینکر بے قابو ہوکر کئی گاڑیوں پر پلٹ گیا۔
حادثہ اس قدر شدید تھا کہ گاڑیاں اور کچھ افراد پل سے نیچے جاگرے، حادثے کے بعد لاشوں کو گاڑیاں کاٹ کر نکالا گیا، آئل ٹینکر کا ڈرائیور بھی موقع پر جاں بحق ہوگیا جب کہ بس ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ ڈی ایچ اے پولیس کے مطابق حادثہ چار گاڑیاں آپس میں ٹکرانے سے پیش آیا، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ 9 لاشوں کو عباسی شہید اسپتال اور زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، زخمیوں میں 5 سالہ بچی رحیمہ، 3 سالہ بچہ عمران، 2 ماہ کا ابرار، 14 سالہ رضوان، 12 سالہ عافیہ اور 25 سالہ امان شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق اب تک خواتین اور بچوں سمیت 13 افراد کی لاشوں کو نکالا جاچکا ہے، جاں بحق افراد میں 3 خواتین اور 4 بچے بھی شامل ہیں۔
موٹروے پولیس نے بتایا کہ حادثے کے مقام کو سیل کردیا گیا ہے، ایم نائن پر ٹریفک کی روانی بحال کرائی جارہی ہے، سڑک کو کلیئر کرکے حیدر آباد سے آنے والی گاڑیوں کو گزارا جارہا ہے۔
دوسری جانب گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے المناک ٹریفک حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے افسوسناک حادثے کے بعد متعلقہ پولیس حکام کو فوری طور پر جائے حادثہ پہنچنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
آئی جی سندھ کی جانب سے جائے حادثہ اور اطراف کے علاقے کو فوری طور پر محفوظ بنانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ حادثے کے بعد آئل ٹینکر سے تیل کے اخراج اور ممکنہ خدشات کے باعث متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
حکام نے ریسکیو اور ایمبولینس عملے کی بروقت رسائی یقینی بنانے کے لیے راستہ کلیئر رکھنے کی ہدایت کی ہے جب کہ ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں، حفاظتی و احتیاطی اقدامات یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ادارے موقع پر موجود ہیں اور صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ادھر سپر ہائی وے پر پیش آنے والے ٹریفک حادثے پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ حادثے کے زخمیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور علاج معالجہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
ڈپٹی میئر کراچی کی ہدایت پر عباسی شہید اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے اسپتال کے عملے کو ہدایت دی کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
سلمان عبد اللہ مراد نے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
ڈپٹی میئر نے مزید کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔