اپ ڈیٹ 24 فروری 2026 01:45pm

افغانستان میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس پر روس کو تشویش

روسی وزارتِ خارجہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں اور ان کے اثرات کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے اور دہشت گرد نیٹ ورکس فعال ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بیس سے تئیس ہزار دہشت گرد جنگجو موجود ہیں، جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں۔ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ داعش خراسان کے تقریباً 3 ہزار دہشت گرد افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں سرگرم ہیں، اور ان کا ہدف وسطی ایشیا تک اپنی نام نہاد خلافت قائم کرنا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 7 ہزار دہشت گرد افغانستان میں سرگرم ہیں، اور یہ پاکستان پر حملوں پر خاص توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جس سے پاک افغان تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

القاعدہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورک چلا رہی ہے، جو خاص طور پر غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان میں قائم ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حالیہ عرصے میں افغانستان میں مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے، اور مشرقی علاقوں میں چین کے ریسٹورنٹس پر حالیہ دھماکے داعش کی موجودگی کا ثبوت ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال خطے کے امن اور استحکام پر منفی اثر ڈال رہی ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی توجہ اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی خطے کے ہمسائیہ ممالک کے لیے شدید خطرہ بن گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق محمد صادق خان نے ازبک ہم منصب سے ورچوئل مشاورت کی، جس میں افغانستان کی موجودہ سلامتی کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

محمد صادق نے بتایا کہ افغان طالبان کی میزبانی میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس سے نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ازبک دہشت گردوں کی تعداد دو ہزار پانچ سو سے زائد ہے، جو ٹی ٹی پی کے بعد خطے میں سرگرم دہشت گردوں کا دوسرا سب سے بڑا گروپ ہے۔

Read Comments