شائع 26 فروری 2026 01:39pm

ہلیری اور بل کلنٹن ایپسٹین کے رازوں سے پردہ اٹھانے کو تیار

امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن اور سابق امریکی وزیرِ خزانہ ہلیری کلنٹن بہت جلد جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے راز منظر عام پر لانے کو تیار ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق بل کلنٹن اور ہلیری کلنٹن کانگریس کی تحقیقات کے سلسلے میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تاریخی بیانات دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے تقریباً 25 سال بعد کلنٹن جوڑے کو ریپبلکن اکثریتی ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ ابتدا میں انہوں نے بیان دینے سے گریز کیا تھا اور اسے سیاسی مہم قرار دیا تھا، تاہم جب انہیں توہینِ کانگریس کی کارروائی کا سامنا ہوا تو انہوں نے بالآخر بیان دینے پر رضامندی ظاہر کی۔

رپورٹ کے مطابق دونوں سابق عہدیداروں کے بیانات نیویارک کے علاقے چیپاکوا لیے جائیں گے جہاں کلنٹن رہائش پذیر ہیں۔ ہلیری کلنٹن جمعرات جبکہ بل کلنٹن جمعہ کو پیش ہوں گے۔ مقام کا تعین ان کے وکیل ڈیوڈ کینڈل اور کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر کے درمیان طے پایا، تاکہ سابق صدر کو کیپیٹل ہل طلب کرنے کی مثال قائم نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق دونوں کے ہمراہ ان کے وکلا ڈیوڈ کینڈل اور چیرل ملز موجود ہوں گے۔ بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی اور امکان ہے کہ چند دنوں میں جاری کر دی جائے۔

کمیٹی اور کلنٹن ٹیم کے درمیان پانچ نکات پر اتفاق ہوا ہے، جن میں ایپسٹین اور اس کی ساتھی گھسلین میکسویل کے خلاف وفاقی تحقیقات میں مبینہ کوتاہیاں، 2019 میں ایپسٹین کی موت کے حالات، جنسی اسمگلنگ کے خلاف حکمتِ عملی، اثر و رسوخ کے ذریعے تحفظ حاصل کرنے کی کوششیں اور منتخب عہدیداروں کے ممکنہ اخلاقی ضابطہ خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بل کلنٹن کم از کم 16 مرتبہ ایپسٹین کے نجی طیارے میں سفر کر چکے ہیں اور محکمہ انصاف کی جاری کردہ فائلوں میں ان کی تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان پر کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا۔

بل کلنٹن کے ترجمان کے مطابق انہوں نے 2019 میں ایپسٹین کی گرفتاری سے قبل ہی تعلق ختم کر لیا تھا اور وہ کسی غیر قانونی سرگرمی سے آگاہ نہیں تھے جبکہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ کبھی ایپسٹین سے نہیں ملیں۔

ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بل اور ہلیری کو جو کچھ معلوم ہے وہ کانگریس کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمن کی تعمیل سب پر لازم ہونی چاہیے اور شفافیت ضروری ہے۔

سیاسی طور پر یہ معاملہ ماضی کے کلنٹن ادوار سے مختلف قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض ڈیموکریٹ اراکین بھی توہینِ کانگریس کی کارروائی کے حق میں ریپبلکنز کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، جس سے دباؤ میں اضافہ ہوا۔ ڈیموکریٹ رکن راشیدہ طلائب نے کہا کہ متاثرین کو انصاف اور شفافیت ملنی چاہیے، چاہے معاملہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔

کمیٹی کے سینیئر ڈیموکریٹ رکن رابرٹ گارشیا کا کہنا ہے کہ وہ بل کلنٹن سے یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ایپسٹین کے غیر ملکی حکومتوں یا انٹیلی جنس اداروں سے روابط تھے یا نہیں۔ دوسری جانب کچھ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ ہلیری کلنٹن کو طلب کرنا سیاسی اقدام ہے۔

ادھر بعض ریپبلکن حلقوں میں یہ خدشہ بھی پایا جا رہا ہے کہ مستقبل میں اگر ایوان پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہوا تو وہ صدر ٹرمپ یا ان کے خاندان کو بھی اسی طرز پر طلب کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر ملا جلا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ منظر اچھا نہیں لگتا، لیکن ان کے بقول ان کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا تھا۔

بالآخر کلنٹن جوڑے نے توہینِ کانگریس کی کارروائی آگے بڑھنے سے قبل ہی کمیٹی کی شرائط تسلیم کر لیں۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ ان بیانات سے ایپسٹین کیس کے حوالے سے کون سی نئی معلومات سامنے آتی ہیں اور آیا یہ پیش رفت وسیع تر سیاسی اور قانونی اثرات مرتب کرے گی۔

Read Comments