افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج کا آپریشن غضب للحق، 58 طالبان اہلکار ہلاک، متعدد چوکیاں تباہ
پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کردیا ہے، پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران افغان طالبان رجیم کے 58 اہلکاروں کے مارے جانے کی مصدقہ اطلاعات ہیں اور کارروائی کے دوران افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو تباہ کردیا گیا ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے تمام کواڈ کاپٹرز مار گرائے ہیں۔
جمعرات کو وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے متعدد مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کا پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔
محکمہ اطلاعات و نشریات کے مطابق وزارت اطلاعات کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں افغان طالبان فورسز کو سخت جواب دیتے ہوئے بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سرحدی جوابی کارروائی کے دوران افغانستان کو بھاری جانی نقصان ہوا ہے جب کہ متعدد چوکیوں اور عسکری سازوسامان کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کردیا
دوسری جانب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کردیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی سرحدی بلااشتعال کارروائی کا فوری اور مؤثر جواب دیا، جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، جس پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چکوال میں بھرپور جواب دیا جب کہ چترال سیکٹر پر واقع افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نہایت درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
خیبرپختونخوا کے سرحدی اضلاع خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ میں افغان طالبان کی چیک پوسٹوں اور چوکیوں کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔
پاک افغان سرحد پر مہمند میں گرسال سیکٹر میں پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی جاری ہے، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی چیک پوسٹیں تباہ کردیں اور مزید 3 طالبان ہلاک کردیے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں۔ سیکیورٹی فورسز نے کرم سیکٹر کے قریب افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کردیے اور مزید 8 طالبان جنگجو کو جہنم واصل کردیا، اب تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق تقریباََ 58 افغان طالبان ہوچکے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کو ناکام بنادیا گیا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کاڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے، ہوائی ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، افغان طالبان کا میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت میں مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد افغان طالبان کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی، افغان طالبان نے باجوڑ میں مسجد کو نشانہ بنایا، افغان طالبان کی شیلنگ سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے متاثرہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی منہ توڑ جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان تور خم بارڈر چھوڑ کر فرار ہوگئے، افغان طالبان تورخم بارڈر سے ٹرکوں پر سامان لاد کر فرار ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے کیے ہیں، افغان طالبان کی فائر کیے گئے گولے باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گرد و نواج میں گرے، باجوڑ میں مارٹر گولے گرنے سے 5 افراد زخمی ہوگئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں، زخمی افراد کو خار اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے حملے کے خلاف باجوڑ کے عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان کے بزدلانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں، پاکستان کی افواج مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں، سیکیورٹی فورسز کسی بھی سرحدی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔