پاک فوج نے افغان طالبان کی 27 فوجی پوسٹیں تباہ، 9 قبضے میں لے لیں
پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کی ہیں, جن میں 133 افغان طالبان جنگجو ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان جوابی کارروائیوں میں کابل، قندھار اور پکتیا میں موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوان شہید اور ایک زخمی ہوا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پکتیا میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے اور ان پر پاکستان کا جھنڈا لگا دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دو افغان پوسٹیں شوال کے مقابل ہیں، دو پوسٹیں انگوراڈہ کے مقابل جبکہ ایک زرملان کے مقابل واقع ہے۔ اس کے علاوہ پاک فوج نے انگوراڈہ کا افغان ٹرمینل بھی تباہ کردیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کے خلاف پاک فوج کی فیصلہ کن کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور مختلف سرحدی و اندرونی سیکٹرز میں دشمن کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک افغان طالبان کی چارلی پوسٹ اور بابری پوسٹ سمیت 27 فوجی پوسٹیں تباہ کی جاچکی ہیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز اور دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) بھی تباہ کی گئیں۔
پاکستان ٹی وی کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی پر افغان طالبان فوج نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرا دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف پاک فوج نے کارروائی کرتے ہوئے قندھار میں افغان طالبان کے کور ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ولی خان سیکٹر میں ایک اور افغان پوسٹ مسمار کر دی گئی ہے جبکہ فورسز افغان طالبان فوج کے ٹھکانوں پر مسلسل حملے کر رہی ہیں۔ پاک افغان سرحد پر انگوراڈہ کے علاقے کا ایک بڑا حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے جمعہ کی رات 3 بج کر 45 منٹ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ افغانستان کے اندر پاکستانی جوابی حملے جاری ہیں اور طالبان فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ان کے مطابق اب تک 27 افغان طالبان چوکیاں تباہ کی جاچکی ہیں جبکہ نو پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔
اس حوالے سے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایکس پر بیان جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں میں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز اور دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ دو اسلحہ ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس بھی تباہ کیے گئے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق ان آپریشنز کے دوران 80 سے زائد ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔
انہوں نے اس کارروائی کو افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار مبینہ بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف پاکستان کا فوری اور مؤثر ردعمل قرار دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کو ناکام بنادیا گیا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کاڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، جس پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چکوال میں بھرپور جواب دیا جب کہ چترال سیکٹر پر واقع افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نہایت درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
خیبرپختونخوا کے سرحدی اضلاع خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ میں افغان طالبان کی چیک پوسٹوں اور چوکیوں کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔
عطا اللہ تارڑ نے ’پاکستان ٹی وی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے پاک۔افغان سرحد پر مختلف مقامات پر فائرنگ کی گئی تھی، جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ بھاری نقصان کے بعد افغان طالبان کی جانب سے جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر من گھڑت دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم پاکستانی مسلح افواج اس پروپیگنڈا سے متاثر نہیں ہوں گی اور قومی سلامتی کے دفاع پر مکمل توجہ مرکوز رکھیں گی۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر بیان میں تسلیم کیا کہ پاکستانی فضائی حملے کابل، قندھار اور پکتیا میں ہوئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے رپورٹ کیا کہ جمعہ کی صبح کابل میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے بعد لڑاکا طیاروں کی پرواز اور مسلسل فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق تقریباً چالیس منٹ تک شہر کے مختلف حصے دھماکوں سے گونجتے رہے۔
ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
حکومت پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کا پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”ہماری افواج کسی بھی جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج قومی جذبے، اعلیٰ تربیت اور پیشہ ورانہ تیاری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم کے مطابق وطن کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کا بھی پاک افغان کشیدگی پر بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی باوقار قوم اور ہماری دلیر مسلح افواج وطن کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ امن، استحکام اور علاقائی سالمیت پر ریاستِ پاکستان کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کو معلوم ہے منصوبہ ساز اور سہولت کار کہاں موجود ہیں۔ خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوں گے۔ قومی سلامتی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔
صدرِ پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال سے احسان فراموش طالبان رجیم اپنے محسن پاکستان کےخلاف اپنے ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان کے طول و عرض میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تصادم نہیں چاہتے، لیکن اگر کسی نے پاکستان کے امن کو کمزوری سمجھا تو اسے سخت جواب ملے گا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے حملہ کر کے بھیانک غلطی کی، افغان طالبان کی جارحیت پر پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جارحیت ناقابلِ برداشت ہے، انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
حکام کے مطابق مغربی سرحد پر سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے اور آئندہ گھنٹوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے، ہوائی ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، افغان طالبان کا میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت میں مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد افغان طالبان کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی، افغان طالبان نے باجوڑ میں مسجد کو نشانہ بنایا، افغان طالبان کی شیلنگ سے مسجد کی چھت اور دیگر حصے متاثرہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی منہ توڑ جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان تور خم بارڈر چھوڑ کر فرار ہوگئے، افغان طالبان تورخم بارڈر سے ٹرکوں پر سامان لاد کر فرار ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے کیے ہیں، افغان طالبان کی فائر کیے گئے گولے باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گرد و نواج میں گرے، باجوڑ میں مارٹر گولے گرنے سے 5 افراد زخمی ہوگئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں، زخمی افراد کو خار اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے حملے کے خلاف باجوڑ کے عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان کے بزدلانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں، پاکستان کی افواج مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہیں، سیکیورٹی فورسز کسی بھی سرحدی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔