آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کب شروع ہوگی؟ امریکی فوج نے وقت بتا دیا

ناکہ بندی کا اطلاق تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے: سینٹ کام
شائع 13 اپريل 2026 08:59am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اہم میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی تو برقرار ہے، لیکن امریکا اب ایران کی معاشی ناکہ بندی کے لیے سخت ترین اقدامات کرنے جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ناکہ بندی کے باقاعدہ وقت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی وقت کے مطابق آج صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی آمدورفت بند کر دی جائے گی۔

سینٹ کام کے مطابق، اس ناکہ بندی کا اطلاق تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے۔

تاہم سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو جہاز خلیج اور بحیرہ عمان کی دیگر غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے، انہیں نہیں روکا جائے گا۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی نقل و حمل کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایران بلکہ اپنے اتحادیوں اور مذہبی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے کردار سے بہت مایوس ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے مسیحی پیشوا پوپ لیو پر غیر معمولی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں کمزور اور خوفناک قرار دے دیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جرم کے معاملات میں پوپ لیو کا رویہ بہت نرم ہے اور وہ ان کے مداح نہیں ہیں۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کی نیوی کو سمندر میں ڈبونے اور اب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھے گا، جس سے اسے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

صدر ٹرمپ نے پر اعتماد لہجے میں کہا کہ ہم ناکہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ایران تیل نہ بیچ سکے اور اس عمل کا آغاز آج صبح سے ہو رہا ہے۔