وزن کم کرنے کے لیے اے آئی پر بھروسہ خطرناک؟ ماہرین کا انتباہ
ٹیکنالوجی کے اس جدید دورمیں فٹ اور صحت مند رہنے کی خواہش تیزی سے مصنوعی ذہانت اے آئی کا سہارا لینے کی جانب راغب کررہی ہے ۔ اب موبائل پر صرف چند کلکس کے ذریعے کم کیلوریز والی ڈائٹ، ورزش کے منصوبے اور وزن کم کرنے کے مشورے حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اے آئی واقعی ہر انسان کے جسم، عادات اور صحت کی مکمل اور درست سمجھ رکھتا ہے؟
مصروف طرز زندگی کی وجہ سے اب لوگ زیادہ تر کسی جادوئی حل کی تلاش میں اپنی صحت کی ذمہ داری مشینوں کے سپرد کررہے ہیں۔ اے ائی آپ کو چند سیکنڈ میں ایک مکمل ڈائٹ پلان تو دے سکتا ہے لیکن مشین آخر مشین ہوتی ہے جو آپ کے مسئلے کو تو سمجھ سکتی ہے لیکن یہ آپ کے موڈ آپ کی اپنی پسندیدہ غذا اور ذہنی کیفیت سے آگاہ نہیں ہوتی۔
ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کا تعلق صرف کیلوریز کم کرنے تک نہیں ہے بلکہ اس کے لیے جسم اور ذہن کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بھی لازمی ہے۔
اگر ہم اےآئی کے سخت اور متعین کردہ اصولوں کے مطابق چلنا شروع کردیتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے ذہنی سکون اور آسانی کو کھونے کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ انسانی مشین یہ کبھی نہیں جان سکتی کہ آج آپ کا آرام کرنے کا موڈ ہے یا آپ کا گھر کا کھانا کھانے کا دل چاہ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی پر مبنی ہیلتھ اور فٹنس ایپس عمر، وزن، قد، روزمرہ سرگرمیوں، نیند اور کھانے کی عادات جیسی معلومات کا تجزیہ کرکے ذاتی نوعیت کی ڈائٹ اور ورزش کے منصوبے تجویز کرتی ہیں۔
اگر ان ٹولز کو سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو یہ لوگوں میں صحت کے بارے میں شعور پیدا کرنے، مستقل مزاجی برقرار رکھنے اور اپنی پیش رفت کو مانیٹر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم، ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں کہ اےآئی کو مکمل طور پر ڈاکٹر کا متبادل سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہر فرد کی طبی تاریخ، ہارمونز کی حالت اور جسمانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، جنہیں اے آئی ہمیشہ درست طریقے سے نہیں سمجھ سکتا۔ خاص طور پر تھائیرائیڈ، پی سی او ایس، ذیابیطس، ہارمونل مسائل یا دل کی بیماریوں میں ڈاکٹر کی نگرانی بے حد ضروری ہوتی ہے۔
بعض اوقات اے آئی بہت کم کیلوریز والی ڈائٹ یا ضرورت سے زیادہ سخت ورزش تجویز کر دیتا ہے، جس سے کمزوری، کمزور پٹھوں اور غذائی قلت جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈیٹا پرائیویسی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بہت سی ہیلتھ ایپس صارفین کی ذاتی اور طبی معلومات جمع کرتی ہیں، اس لیے کسی بھی ایپ کو استعمال کرنے سے پہلے اس کی پرائیویسی پالیسی کو اچھی طرح پڑھنا ضروری ہے تاکہ آپ کی معلومات محفوظ رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کو ڈاکٹر کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کی رہنمائی کے ساتھ اے آئی کا استعمال زیادہ مؤثر اور محفوظ ثابت ہو سکتا ہے۔
اے آئی آپ کی پیش رفت کو ٹریک کرنے، عادات کو سمجھنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن حتمی رہنمائی ہمیشہ ماہرین سے ہی لینی چاہیے اور انہی کے مشوروں پر عمل کرنا بہتر رہتا ہے۔
مستقبل میں اے آئی صحت اور میٹابولزم کو بہتر انداز میں سمجھنے اور بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور تجاویز دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، محفوظ اور مستقل وزن کم کرنے کا بہترین طریقہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنانا ہی ہے۔ صرف ڈیجیٹل مشوروں پر انحصار کرنا کافی نہیں، بلکہ ماہرین کی رہنمائی سب سے زیادہ ضروری ہے۔