ایران کے خلاف آپریشن میں امریکا کا بی-52 بمبار طیارے کے استعمال کا انکشاف
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف آپریشن ”ایپک فیوری“ کے ابتدائی 72 گھنٹوں کے دوران ایران بھر میں 1700 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ تفصیلات امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری کی گئی فیکٹ شیٹ میں سامنے آئی ہیں۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران بی-52 بمبار طیارے بھی استعمال کیے گئے۔
فیکٹ شیٹ کے تحت روزانہ کی بنیاد پر آپریشن سے متعلق تازہ معلومات جاری کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز جاری کردہ اعداد و شمار میں پہلے 48 گھنٹوں کے دوران 1200 اہداف کو نشانہ بنانے کا ذکر تھا، تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر سترہ سو سے تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک اہم پیش رفت میں انکشاف کیا گیا کہ فضائی حملوں میں بی-52 بمبار طیاروں کو بھی شامل کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انہیں کس وقت استعمال کیا گیا۔ اس سے قبل بی-2 اور بی-1 اسٹیلتھ بمبار طیارے بھی کارروائیوں میں استعمال کیے جا چکے ہیں۔
پیر کے روز چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا تھا کہ سینٹکام کو مزید افواج فراہم کی جائیں گی۔
فیکٹ شیٹ کے مطابق ابتدائی حملوں کے دوران ایران کی پاسداران انقلاب فورس کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا گیا۔
نشانہ بنائے گئے دیگر اہداف میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، آئی آر جی سی کا مشترکہ ہیڈکوارٹر، آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورسز ہیڈکوارٹر، مربوط فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل سائٹس، ایرانی بحریہ کے جہاز، ایرانی بحریہ کی آبدوزیں، اینٹی شپ میزائل سائٹس اور عسکری مواصلاتی صلاحیتیں شامل ہیں۔