شائع 04 مارچ 2026 11:16am

قطر کا پاسداران انقلاب کے 10 جاسوس گرفتار کرنے کا دعویٰ

قطر نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک مبینہ 10 جاسوس گرفتار کر لیا ہے۔

قطر کے خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ گرفتار افراد میں سے سات کو قطر کی ’اہم اور فوجی تنصیبات‘ کی جاسوسی کا کام سونپا گیا تھا، جبکہ تین افراد کو تخریب کاری کی کارروائیوں کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ہیں اور انہیں جاسوسی اور تخریب کاری کے مشن سونپے گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے قبضے سے حساس مقامات اور تنصیبات کے نقشے، کوآرڈینیٹس، مواصلاتی آلات اور دیگر تکنیکی سامان برآمد کیا گیا ہے۔

اُدھر ایران نے ہفتے سے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد قطر سمیت دیگر خلیجی عرب ممالک پر متعدد جوابی حملے کیے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق شہری تنصیبات بشمول ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران قطر میں درجنوں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ قطری وزارت دفاع کے مطابق ہفتے سے اب تک اس کی فضائی حدود کی جانب تین کروز میزائل، 101 بیلسٹک میزائل اور 39 ڈرون داغے گئے، جنہیں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔

قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران نے حملوں سے قبل دوحہ کو آگاہ نہیں کیا تھا، جس کے باعث حکام حیران رہ گئے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے صحافیوں کو بتایا کہ قطر ان بلاجواز حملوں پر حیران ہے۔

انہوں نے کہا کہ حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم تمام میزائل دفاعی اقدامات کے تحت مار گرائے گئے اور کوئی بھی ایئرپورٹ تک نہیں پہنچ سکا۔ ترجمان کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے باعث تقریباً آٹھ ہزار افراد قطر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب عمان، جو جنگ سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کر رہا تھا، نے منگل کو جنگ بندی پر زور دیا۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

Read Comments