شائع 04 مارچ 2026 03:52pm

’تیاری کر لو، حضرت عیسیٰؑ کی آمد اور دنیا کا خاتمہ قریب ہے‘: ٹرمپ کے کمانڈروں کا فوجیوں کو مبینہ حکم

امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ نے جہاں دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے وہیں امریکی فوج کے اندر سے ایک نئی اور عجیب بحث سامنے آئی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، کچھ امریکی فوج کے کچھ کمانڈروں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنے سپاہیوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ یہ لڑائی دراصل خدا کے اس منصوبے کا حصہ ہے جو دنیا کے خاتمے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی سے جڑا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’ڈیلی میل‘ کے مطابق، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’ملٹری ریلیجیس فریڈم فاؤنڈیشن‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے گزشتہ چند دنوں میں مختلف فوجی یونٹس سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زائد اہلکاروں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات میں کہا گیا ہے کہ فوجی افسران اس جنگ کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔

ایک سینیئر فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے کمانڈر نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خاص مذہبی مقصد کے لیے چنا گیا ہے تاکہ وہ ایران میں جنگ کی آگ بھڑکا کر اس عظیم معرکے کی بنیاد رکھیں جس کے بعد دنیا ختم ہو جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔

اس کمانڈر نے مبینہ طور پر انجیل کے حوالے دیتے ہوئے فوجیوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے ماتحت عملے کو بتائیں کہ یہ سب کچھ ایک خدائی منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔

ان فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی گفتگو سے فوج کے اندر اتحاد اور نظم و ضبط متاثر ہو رہا ہے کیونکہ فوج میں ہر مذہب کے ماننے والے لوگ موجود ہیں اور وہ آئین کے وفادار رہنے کا حلف اٹھاتے ہیں نہ کہ کسی خاص مذہبی نظریے کا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی کمانڈروں کو ایسی کوئی ہدایات نہیں دی گئیں اور نہ ہی یہ جنگ کسی مذہبی پیشگوئی پر مبنی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے صرف تین بنیادی مقاصد ہیں جن میں ایران کے میزائل نظام، اسلحہ سازی کی صنعت اور بحریہ کو تباہ کرنا شامل ہے۔

تاہم امریکی دفاعی حلقوں میں مذہبی رجحانات کی جڑیں کافی گہری نظر آتی ہیں۔

ڈیلی میل کے مطابق، موجودہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پینٹاگون میں ہر ماہ دعائیہ تقاریب منعقد کرتے ہیں اور وہ ایک ایسے مبلغ سے بائبل بھی پڑھ رہے ہیں جو اسرائیل کی حمایت کو مذہبی فریضہ قرار دیتے ہیں۔

اسی طرح صدر ٹرمپ کی دیرینہ روحانی مشیر پاؤلا وائٹ اور معروف پادری جان ہیگی بھی برسوں سے یہ پرچار کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ دراصل دنیا کے آخری وقت کی علامت ہے۔

اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ ہفتے کے روز ایک مشترکہ کارروائی میں ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اڈوں، سفارت خانوں اور اسرائیل سمیت امریکا کے اتحادی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے شروع میں اس جنگ کے چار سے پانچ ہفتوں میں ختم ہونے کی امید ظاہر کی تھی، لیکن اب انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ لڑائی توقع سے کہیں زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔

عام سپاہیوں میں اس صورتحال کو لے کر بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ وہ جنگی محاذ پر جانے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ اس لڑائی کو سیاسی یا دفاعی مقاصد کے بجائے مذہبی بنیادوں پر لڑنے کے حق میں دکھائی نہیں دیتے۔

Read Comments