’امریکا کو شکست ہوگی‘: ٹرمپ کی جیت اور ایران جنگ کا بتانے والے ماہر کی تیسری پیش گوئی
امریکا کے مشہور یوٹیوب چینل ’پریڈیکٹو ہسٹری‘ کے میزبان اور وار گیم تھیوری کے ماہر پروفیسر جیانگ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکا ایران جنگ کے حوالے سے سنسنی خیز تجزیہ پیش کیا ہے۔
پروفیسر جیانگ ژیچِن نے سن 2024 میں تین بڑی پیشن گوئیاں کی تھیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور امریکی صدر جیت، ایران کے ساتھ جنگ کا آغاز اور اس جنگ میں امریکا کی ممکنہ شکست شامل تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی دو باتیں سچ ثابت ہو چکی ہیں اور اب تیسری بات یعنی امریکی شکست کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
پروفیسر جیانگ نے ایک پوڈکاسٹ ’بریکنگ پوائنٹس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران گزشتہ بیس سالوں سے اس تصادم کی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی حکمت عملی کے تحت یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ہے، جس میں انہوں نے اپنے اتحادیوں جیسے حوثی، حزب اللہ اور حماس کے ذریعے امریکی نفسیات کو سمجھ لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا منصوبہ امریکی معیشت کی جڑوں پر وار کرنا ہے، جس کے لیے وہ خلیجی ممالک کے پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
پروفیسر جیانگ کے مطابق، اگر ایران ریاض جیسے بڑے شہر کے واٹر پلانٹ کو تباہ کر دیتا ہے تو محض دو ہفتوں میں وہاں پانی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جو ان ممالک کے وجود کے لیے خطرہ بن جائے گا۔
پروفیسر جیانگ نے بتایا کہ اس جنگ کا ایک اور اہم پہلو معاشی ہے کیونکہ خلیجی ممالک کے پاس موجود پیٹرو ڈالر امریکی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق، اگر ایران تیل کی سپلائی روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو امریکا میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کا بلبلہ پھٹ جائے گا، جس سے پوری امریکی معیشت زمین بوس ہو سکتی ہے۔
اسی طرح جنگی اخراجات کا فرق بھی تشویش ناک ہے، جہاں ایران پچاس ہزار ڈالر کے سستے ڈرونز استعمال کر رہا ہے جبکہ امریکہ انہیں گرانے کے لیے لاکھوں کروڑوں ڈالر کے مہنگے میزائل ضائع کر رہا ہے، جو طویل مدت کے لیے پائیدار نہیں ہے۔
پروفیسر جیانگ نے اس جنگ کے پیچھے تین بڑی وجوہات بتائی ہیں۔ پہلی وجہ امریکی حکمرانوں کا غرور ہے جو پچھلی فتوحات کی وجہ سے خود کو ناقابل شکست سمجھنے لگے ہیں۔ دوسری وجہ ذاتی سیاسی مفادات ہیں، جہاں صدر ٹرمپ کو سعودی عرب اور اسرائیل کی جانب سے بھاری سیاسی اور مالی حمایت مل رہی ہے۔ تیسری اور سب سے حیران کن وجہ کچھ خفیہ گروہوں کا اثر و رسوخ ہے جو دنیا کے معاملات کو اپنے مخصوص مذہبی یا نظریاتی ایجنڈے کے تحت چلانا چاہتے ہیں۔
ان تمام عوامل کی موجودگی میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کو ایران میں زمینی فوج اتارنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جو تاریخ کی بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔