اسپین کا ایران پر امریکی حملوں میں تعاون سے انکار، وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد
اسپین کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران پر امریکی فوجی حملوں میں تعاون نہیں کرے گی، برخلاف اس کے کہ وائٹ ہاؤس نے اس کے تعاون کا دعویٰ کیا تھا۔
اسپین کے وزیر خارجہ جوس مینوئل البارس نے کہا ہے کہ اسپین کی حکومت کی ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکی فوج کو جنوبی اسپین کے کسی بھی فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق دی جا سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا تھا کہ اسپین نے امریکی فوجی کارروائیوں میں تعاون کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے، جب کہ ٹرمپ نے میڈرڈ کے ساتھ تجارتی تعلقات روکنے کی دھمکی دی تھی۔
دوسری جانب اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانشیز نے کہا ہے کہ اسپین جنگ کی مخالفت پر قائم رہے گا کیونکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے یوکرین ہو، غزہ یا عراق، اسپین کا اصولی مؤقف ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں ہونا چاہیے۔
کیڈینا ایس ای آر ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ البارس نے وائٹ ہاؤس کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور ایران میں بمباری کے حوالے سے ہماری پالیسی اور ہمارے فوجی اڈوں کے استعمال سے متعلق مؤقف میں ایک حرف بھی تبدیلی نہیں آئی۔
اسپین نے واضح طور پر وائٹ ہاؤس کے بیان کو مسترد کیا اور امریکی فوج کے ساتھ کسی بھی غیرقانونی یا اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے ہٹ کر تعاون کے امکان کو ختم کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیین اور یورپی کونسل کے صدرانتونیو کوسٹا نے بھی پیڈرو سانشیز کی حمایت کی ہے، انتونیو کوسٹا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یورپی یونین ہمیشہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کے رکن ممالک کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پزیکشیان نے اسپین کے مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ میڈرڈ کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی دنیا میں اب بھی ایسے ممالک موجود ہیں جو بین الاقوامی قانون اور اخلاقی اصولوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ امریکا جب چاہے اسپین کے فوجی اڈوں کو استعمال کر سکتا ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔