شائع 05 مارچ 2026 10:59am

’ایران کے تمام ڈرونز کو روکنا ممکن نہیں‘، امریکی حکام کی کانگریس کو بریفنگ میں اعتراف

امریکی حکام نے کانگریس کو دی گئی بریفنگ میں اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ’شاہد ڈرونز‘ امریکا کے ایئر ڈیفنس سسٹم کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں اور انہیں مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کے روز کیپیٹل ہِل میں ایک بند کمرہ بریفنگ کے دوران کانگریس ارکان کو بتایا ہے کہ ایران کے ڈرونز امریکی دفاعی نظام کے لیے غیر معمولی مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میٹنگ میں امریکی حکام نے اعتراف کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام تمام ایرانی ڈرونز کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی تسلیم کیا کہ یہ ڈرونز توقع سے زیادہ بڑا مسئلہ ثابت ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شاہد ڈرونز عموماً کم بلندی اور کم رفتار سے پرواز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔

بریفنگ کے دوران امریکی حکام نے کانگریس ارکان کو واضح کیا کہ ان کی بنیادی ترجیحات ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا، بحری طاقت کو کمزور کرنا، جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں سے روکنا اور خطے میں مسلح گروہوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے باز رکھنا ہے۔

ارکانِ کانگریس کے بیانات میں جنگ کی مدت کے حوالے سے بھی مختلف آراء پائی گئی ہیں۔ ری پبلکن سینیٹر ٹومی ٹیوبر وِل نے کہا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت بریفنگ دینے والے حکام نے عندیہ دیا کہ یہ جنگ تین سے پانچ ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔

تاہم ری پبلکن سینیٹر جوش ہالی نے کہا کہ انہیں بریفنگ سے ایسا کوئی واضح ٹائم فریم نظر نہیں آرہا۔ ان کے مطابق انہیں صورت حال غیر معینہ مدت کی جنگ کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے سوال اٹھایا کہ امریکا نے اس جنگ کا فیصلہ کیوں کیا جب کہ ایسا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا کہ امریکا یا خطے میں اس کے مفادات کو فوری خطرہ لاحق تھا۔

سی این این کے مطابق ڈیموکریٹ ارکان میں اس بات پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے کہ جنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ امریکا کے دفاعی ذخائر کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایریزونا سے ڈیموکریٹ سینیٹر مارک کیلی نے خبردار کیا کہ امریکا کے پاس اسلحے کا لامحدود ذخیرہ موجود نہیں۔ دوسری جانب ایران کے پاس بڑی تعداد میں شاہد ڈرونز اور مختلف رینج کے بیلسٹک میزائل موجود ہیں، اس لیے اگر جنگ طویل ہوئی تو یہ مسئلہ اس بات پر آ جائے گا کہ امریکا اپنے فضائی دفاعی ہتھیار کہاں سے اور کیسے دوبارہ حاصل کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی سینیٹ نے بدھ کے روز ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔

زیادہ تر ری پبلکن ارکان نے قرارداد کے خلاف جب کہ تقریباً تمام ڈیموکریٹک سینیٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کا مقصد ایران پر حملے روکنا اور کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینا تھا۔


Read Comments