دشمن کو انجام تک پہنچائے بغیر جنگ بند نہیں کریں گے: ایرانی جنرل
ایران نے اعلان کیا ہے کہ ایران دشمن کو انجام تک پہنچائے بغیر جنگ بند نہیں کرے گا، ایران اپنے اہداف کے حصول تک لڑائی جاری رکھے گا اور امریکا کو شدید ضرب لگانا اولین ہدف ہے، جنگ کتنے دن جاری رہتی ہے ہمیں فرق نہیں پڑتا، ہم پہلے بھی 8 سال تک جنگ لڑنے کا تجربہ کرچکے ہیں۔
جمعرات کو ایرانی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر کیومرس حیدری نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران دشمن کو شرمناک انجام تک پہنچائے بغیر جنگ ختم نہیں کرے گا، وہ اپنے مقاصد کے حصول تک فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا، خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی صورت حال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
ایرانی جنرل کا کہنا تھا کہ ایران اپنے طے شدہ اہداف کے حصول تک جنگ جاری رکھے گا اور اس حوالے سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا، امریکا کو شدید ضرب لگانا ایران کا اولین ہدف ہے۔ ان کے مطابق جنگ کتنے دن جاری رہتی ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ ایران کو طویل جنگ لڑنے کا تجربہ حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس سے قبل بھی آٹھ سال تک جنگ لڑنے کا تجربہ رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طویل عرصے تک مقابلہ جاری رکھ سکتا ہے۔
کمانڈر کیومرس حیدری کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز امریکا کی وجہ سے بند ہے اور ایران نے اسے بند نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج زمین، فضا اور سمندر میں دشمن کا مقابلہ کر رہی ہیں، امریکی فوج کو پہلی بار سخت ترین جنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے جمعرات کی صبح خلیج کے شمالی حصے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔
آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی یورپی ممالک کے فوجی اور تجارتی جہازوں کو خطے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بیان میں کہا گیا کہ اگر ایسے جہازوں کی موجودگی دیکھی گئی تو انہیں یقینی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کے تحت ایران کو جنگی حالات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے راستے کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔
ادھر خلیج میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں جانب سے سخت فوجی مؤقف برقرار رکھنے کے باعث خطے کی سلامتی اور عالمی بحری تجارتی راستوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔