ایران: امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 13 اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا: عالمی ادارۂ صحت

جنگ کے آغاز سے اب تک ایران اور لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے
شائع 06 مارچ 2026 08:49am

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران اور لبنان میں اسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت صحت کے مراکز کو تحفظ حاصل ہونا چاہیے اور انہیں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

عالمی ادارۂ صحت نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے خطے میں بڑے پیمانے پر جاری جانی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو پریس بریفنگ میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے ایران میں صحت کے شعبے پر 13 جب کہ لبنان میں ایک طبی مرکز پر حملے کی تصدیق کی۔

اسی بریفنگ میں مشرقی بحیرہ روم کے لیے ڈبلیو ایچ او کی علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی نے بتایا کہ ایران میں چار ایمبولینسیں متاثر ہوئی ہیں جب کہ دھماکوں کے باعث اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لبنان میں اسرائیل کی جانب سے حملوں کی وارننگ کے بعد انخلا کے باعث کئی اسپتالوں اور کلینکس کو بند کرنا پڑا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ ایران کے سفیر نے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کو لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا تھا کہ ایران پر حملوں میں 10 طبی مراکز متاثر ہوئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کے مطابق حالیہ جنگ کے باعث بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی بھی ہو رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک تقریباً ایک لاکھ افراد ایران چھوڑ چکے ہیں جب کہ لبنان میں تقریباً 60 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، یہ سب اس وقت ہوا جب بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر اس تنازع سے جوہری تنصیبات متاثر ہوئیں تو اس کے عوامی صحت پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سرکاری بیانات کے مطابق جنگ کے ساتویں روز تک ایران میں کم از کم ایک ہزار 230 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ہوچکی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے 13 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ 6 امریکی فوجی اہلکاروں بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں جانب سے ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔

Read Comments