عراق میں جنگی طیارہ گرنے کا معاملہ، امریکی فوج اور مقامی حکام کے دعوؤں میں تضاد

عراقی پولیس نے بصرہ میں امریکی لڑاکا طیارہ کے گر کر تباہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا
شائع 06 مارچ 2026 09:46am

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے عراق کے شہر بصرہ میں امریکی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ تاہم مقامی حکام کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔

سینٹ کام نے جمعہ کے روز سوش میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ میں کہا ہے کہ بصرہ میں کسی امریکی جنگی طیارے کو مار گرائے جانے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔

امریکی فوج کے مطابق اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں۔

تام بصرہ کی مقامی انتظامیہ، ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کیے دعوے اس سے مختلف ہیں۔

سوشل میڈیا پر اسی دوران چند ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں جن میں بصرہ کے آسمان پر ایک پائلٹ کو پیراشوٹ کے ذریعے اترتے ہوئے دکھانے کا دعویٰ کیا گیا۔

ایک اور وائرل ویڈیو میں لوگوں کا ایک ہجوم نعرے لگاتا ہوا نظر آرہا ہے جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ عوام نے گرنے والے جہاز کے پائلٹ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے بھی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں امریکی لڑاکا طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعوؤں کے بعد بصرہ پولیس کمانڈ نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ صوبے کی حدود میں ایک طیارہ گرنے کی اطلاع ملی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے بچ نکلنے والے امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے سرچ ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ تمام یونٹس کو اس پائلٹ کی تلاش کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے بصرہ کے اوپر ایک امریکی ایف-15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل کویت میں امریکی فضائیہ کے تین طیارے تباہ ہوگئے تھے۔ جس کے بعد سینٹ کام نے اس واقعے کو فرینڈلی فائر کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کویتی دفاعی نظام کی غلطی کے باعث امریکی طیارے تباہ ہوئے۔

Read Comments