حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کردیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 321 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہوگئی ہے۔ قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں موجود وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 55، 55 روپے کے اضافے کا اعلان کیا۔
وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ موجودہ غیرمعمولی علاقائی صورتحال کے باوجود پاکستان کی معاشی پوزیشن مستحکم ہے، تاہم عالمی حالات کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں کسی قسم کی افراتفری کی صورتحال نہیں ہے اور حکومت تمام معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ دو سے تین روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عالمی حالات پر تفصیلی غور و فکر کیا جارہا تھا تاکہ عوام پر اس کے اثرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں ابھی تک ٹھہراؤ نہیں آیا اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ متاثر ہورہی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال پر قابو پانے میں کتنا وقت لگے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم بھی مختلف ممالک کے سربراہان سے متعدد بار رابطے کرچکے ہیں جبکہ فیلڈ مارشل بھی عالمی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ملک اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ملک سے شروع ہونے والی آگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح تاریخ سامنے نہیں آرہی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ایسے حالات میں بحیثیت قوم ہمیں نظام کو چلانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی اور جہاں تک ممکن ہو اپنے تیل کے ذخائر کو دانشمندی سے استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر مملکت کے مطابق سعودی کمپنی سعودی آرامکو نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سمندری راستے سے خام تیل کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل وقت میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ نے پیٹرولیم ڈویژن کی رہنمائی کی اور حکومت کوشش کررہی ہے کہ عالمی بحران کے باوجود ملک میں توانائی کی فراہمی برقرار رکھی جائے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر پیٹرولیم، وزیر تجارت اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اس موقع پر اوگرا، پارکو اور دیگر محکموں نے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر پر بریفنگ دی۔
