’جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے‘: ایک لبنانی چرواہے کی روداد جو دو دن سے پیدل چل رہا ہے
اسرائیلی حملوں کے خوف سے جنوبی لبنان سے نکلا ایک چرواہا اپنی سو سے زائد بھیڑوں اور بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ کئی دنوں سے مسلسل پیدل چل رہا ہے تاکہ سرحدی علاقے سے نکل کر نسبتاً محفوظ مقام ’بیکا‘ پہنچ جائے۔
الجزیرہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس چرواہے کی ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ یہ چرواہا جنوبی لبنان کے ساحلی سرحدی قصبے نقورہ سے روانہ ہوا۔ وہ رات کے اندھیرے میں سڑک پر آگے بڑھ رہا ہے جہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں بھی شمال کی جانب نقل مکانی کر رہی ہیں۔ اس ہجوم کے درمیان وہ اپنے ریوڑ کو سنبھالتے ہوئے آہستہ آہستہ سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
چرواہے کے کپڑے گرد آلود ہیں، چہرے پر شدید تھکن نمایاں ہے اور قدم بوجھل نظر آتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کے مسلسل پیدل سفر کا دوسرا دن ہے اور اسے منزل تک پہنچنے میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں۔
چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کو کیوں ساتھ لے کر چل رہا ہے؟ اس کی وجہ سادہ مگر دل دہلا دینے والی ہے، یہ نہ صرف اس کا روزگار بلکہ پوری زندگی کا سرمایہ ہے۔
جنوبی لبنان کے دیہاتی علاقوں میں رہنے والے چرواہوں کے لیے بھیڑ بکریاں دراصل دودھ، گوشت، اور فروخت کا ذریعہ ہیں یعنی اس کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہیں۔ اگر یہ ریوڑ چھوٹ جائے تو خاندان بھوکا مر جائے گا۔ وہ جانتا ہے کہ جنگ زدہ علاقے میں جانوروں کو بھی چھوڑنا موت کے برابر ہے، اس لیے انہیں ہر حال میں بچانا اور ساتھ لے جانا ہی واحد راستہ ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہیں، جہاں ہزاروں شہری اپنے گھر بار، فرنیچر اور ضروری سامان کو چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہی گاڑیوں کے بیچ یہ چرواہا اپنے ریوڑ کو ہانکتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کا چہرہ تھکاوٹ، بھوک اور پریشانی سے لبریز ہے، کپڑے دھول آلود، اور ہر قدم بوجھل ہے۔
اس نے بتایا کہ یہ اس کا دوسرا دن ہے کہ وہ مسلسل پیدل چل رہا ہے اورنسبتاً محفوظ مقام ’بیکا‘ تک پہنچنے کے لیے پانچ دن تک یہ سفر جاری رہے گا۔ ریوڑ کی بھیڑیں اور بکریاں بھی تھک کر چل رہی ہیں، کئی بار بکھر جاتی ہیں جنہیں وہ دوبارہ اپنے ریوڑ میں شامل کرتا ہے۔ اس کی آواز میں مایوسی جھلک رہی ہے جب وہ کہتا ہے کہ ”ہمیں کہیں پناہ چاہیے، گھر تو اب خطرے میں ہے۔“
یہ صرف ایک چرواہے کی ہی داستان نہیں بلکہ ان حالات کا سامنا ہر عام شہری کو ہے، کسانوں اور دیہاتی مزدوروں کے لیے یہ صورتِ حال خاص طور پر مشکل ہے کیونکہ ان کی زندگی زمین اور مویشیوں سے جڑی ہوتی ہے۔ ایسے میں گھر چھوڑنا صرف نقل مکانی نہیں بلکہ اپنی پوری معاشی بنیاد کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
جنگ میں حالات اور اس کے اثرات صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہوتے بلکہ زندگی کی حفاظت کے ساتھ روزمرہ زندگی، روزگار اور مستقبل کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں ساحر لدھیانوی کے کلام کا یہ مصرع یاد آگیا کہ ’جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے‘۔