ایران نے 30 کروڑ ڈالر کا امریکی ایئر ڈیفنس سسٹم ’تھاڈ‘ تباہ کردیا

اس ریڈار کے ناکارہ ہونے کے بعد اب میزائلوں کو روکنے کی تمام تر ذمہ داری پیٹریاٹ سسٹم پر آ گئی ہے، جس کے لیے پہلے ہی میزائلوں کی قلت کی شکایات سامنے آ رہی تھیں۔
شائع 07 مارچ 2026 03:46pm

ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں اردن میں واقع موفق سالتی ایئر بیس پر موجود ایک انتہائی اہم امریکی ریڈار سسٹم تباہ ہو گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر اور امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ریڈار ’تھاڈ‘ (THAAD) نامی جدید میزائل ڈیفنس سسٹم کا حصہ تھا جسے آر ٹی ایکس کارپوریشن نے تیار کیا تھا۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق اس ریڈار کی قیمت تقریباً 30 کروڑ ڈالر ہے اور یہ خلیجی خطے میں امریکی دفاعی صلاحیتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔

اس ریڈار کی تباہی سے مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکنے کی امریکی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’تھاڈ‘ سسٹم زمین کے ماحول کی آخری حدود میں بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ چھوٹے فاصلے کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

اس ریڈار کے ناکارہ ہونے کے بعد اب میزائلوں کو روکنے کی تمام تر ذمہ داری پیٹریاٹ سسٹم پر آ گئی ہے، جس کے لیے پہلے ہی میزائلوں کی قلت کی شکایات سامنے آ رہی تھیں۔

تھاڈ کے ایک مکمل یونٹ کی قیمت تقریباً ایک ارب ڈالر ہوتی ہے اور پوری دنیا میں امریکا کے پاس اس وقت صرف آٹھ ایسے سسٹم موجود ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس ریڈار کا ضیاع ایک بہت بڑا دھچکا ہے کیونکہ امریکا کے پاس اس وقت کوئی اضافی ریڈار دستیاب نہیں ہے جو اس کی جگہ لے سکے۔

تحقیقی اداروں کے مطابق اس سے قبل قطر میں بھی ایک امریکی ریڈار ایرانی حملے میں متاثر ہوا تھا۔

خلیجی خطے میں موجود فضائی دفاعی نظام اس وقت ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل حملوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

امریکی حکام کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر حملے اسی طرح جاری رہے تو جدید دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ جلد ہی خطرناک حد تک کم ہو سکتا ہے۔

اسی صورتحال کے پیش نظر امریکی محکمہ دفاع نے حال ہی میں بڑے دفاعی ساز و سامان بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے تاکہ ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی لائی جا سکے۔

Read Comments