حملے جاری رہے تو امریکا کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، سعودی عرب کی ایران کو دھمکی

توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔
اپ ڈیٹ 08 مارچ 2026 01:34pm

سعودی عرب نے پہلی بار ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ تہران اور امریکا کے درمیان تنازع کے سفارتی حل کا حامی ہے تاہم اگر مملکت پر حملے جاری رہے تو ریاض جوابی کارروائی کرے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ پیغام اس سے پہلے دیا گیا جب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ہفتے کے روز خلیجی ہمسایہ ممالک سے اپنے اقدامات پر معذرت کی، تاکہ ایران کے حملوں سے پیدا ہونے والے غصے کو کم کیا جا سکے۔

دو دن قبل سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کی اور ریاض کی پوزیشن واضح کی۔

ذرائع کے مطابق سعودی وزیر نے کہا کہ مملکت کسی بھی ثالثی یا مذاکرات کی حمایت کرتی ہے جو کشیدگی کم کرنے اور مسئلہ حل کرنے میں مددگار ہو۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نہ تو سعودی عرب اور نہ ہی دیگر خلیجی ممالک نے امریکی فضائی حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود یا زمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق سعودی وزیر نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے حملے سعودی سرزمین یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر جاری رہے تو سعودی عرب مجبور ہو گا کہ امریکی فورسز کو اپنے اڈوں کا استعمال کرنے کی اجازت دے، اور مملکت اپنے توانائی کے اہم اہداف پر حملوں کے جواب میں کارروائی کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ ریاض اور تہران کے درمیان امریکی اور اسرائیلی مہم کے آغاز کے بعد سفارتی رابطے جاری رہے ہیں اور سعودی عرب اپنے سفیر کے ذریعے تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا ہے۔

سعودی اور ایرانی وزارت خارجہ نے رائٹرز کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

Read Comments