تہران میں تیل کی بارش، دھویں سے دن رات میں بدل گیا

بارش کے قطرے سیاہ بادلوں سے گر رہے تھے جن میں تیل کی آمیزش محسوس ہو رہی تھی۔
شائع 08 مارچ 2026 05:42pm

ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملوں کے بعد آسمان پر سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل چھا گئے اور کئی علاقوں میں بارش کے ساتھ تیل آلود قطرے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صحت کے خطرات کے پیش نظر گھروں کے اندر رہیں۔

اتوار کی صبح تہران کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے بتایا کہ شہر کے اوپر آسمان گہرے دھوئیں سے ڈھکا ہوا تھا اور فضا میں جلتے ہوئے ایندھن کی بو پھیل رہی تھی۔

کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ سورج نکلنے کے باوجود ماحول غیر معمولی طور پر تاریک دکھائی دے رہا تھا۔ بعض لوگوں نے شکایت کی کہ بارش کے قطرے سیاہ بادلوں سے گر رہے تھے جن میں تیل کی آمیزش محسوس ہو رہی تھی۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ہفتے کی رات اسرائیل کی جانب سے تہران کے قریب تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق حملوں میں چار آئل ڈپوز اور ایک تیل منتقلی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے جن میں دو آئل ٹینکر ڈرائیور بھی شامل تھے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ تیل کے ڈپو میں ہونے والے دھماکوں کے بعد فضا میں زہریلے ہائیڈروکاربن مرکبات، سلفر اور نائٹروجن آکسائیڈز کی بڑی مقدار پھیل گئی ہے۔

ادارے کے مطابق اگر اس ماحول میں بارش ہوتی ہے تو یہ بارش انتہائی خطرناک اور تیزابی ہو سکتی ہے جس سے جلد جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

ایرانی ماحولیاتی حکام نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر گھروں کے اندر رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں تاکہ سانس کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن تیل ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا وہ ایران کے فوجی ڈھانچے کے لیے ایندھن فراہم کرتی تھیں۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ایرانی فوجی ادارے ان ذخیرہ گاہوں سے باقاعدگی سے ایندھن حاصل کرتے ہیں جو مختلف فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ حملہ ایران کے فوجی ڈھانچے کو مزید کمزور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ایران کی نیشنل آئل پروڈکٹس ڈسٹری بیوشن کمپنی کے سربراہ کرامت ویسکرامی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ حملوں میں پانچ تیل تنصیبات کو نقصان پہنچا لیکن آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے پاس پٹرول کے ذخائر کافی مقدار میں موجود ہیں اور فوری طور پر ایندھن کی قلت کا خدشہ نہیں۔

دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی معیشت پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع اسی طرح جاری رہا تو تیل کی پیداوار اور فروخت دونوں متاثر ہو سکتی ہیں جس سے عالمی سطح پر قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر تقریباً بانوے ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو 2023 کے بعد بلند ترین سطح بتائی جا رہی ہے۔

اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت بھی نوے ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اسی دوران خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اتوار کو ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے بعض اہم انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں آگ لگنے کی اطلاع دی گئی تاہم کویتی حکام کے مطابق اسے جلد قابو میں لے لیا گیا اور کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا۔

بحرین میں بھی ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنانے والے ایک پلانٹ کو نقصان پہنچنے کی خبر دی گئی۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے ایران پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

تاہم بحرین کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے باوجود ملک میں پانی کی فراہمی یا نیٹ ورک کی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔

Read Comments