مشرق وسطیٰ کشیدگی: عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 119 ڈالر سے تجاوز
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 119 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ برینٹ کروڈ فی بیرل تقریباً 119.50 ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ بعد میں 112.98 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 119.48 ڈالر تک پہنچنے کے بعد 110.17 ڈالر پر واپس آیا۔
تحقیقی ادارے ریسٹڈ انرجی کے مطابق روزانہ تقریباً 15 ملین بیرل تیل، جو عالمی پیداوار کا 20 فیصد بنتا ہے، ہرمز کے راستے منتقل ہوتا ہے۔ تاہم ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کی وجہ سے ٹینکرز کا یہ سفر تقریباً رک گیا ہے، جس سے سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران سے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات نے اپنی پیداوار کم کردی ہے کیونکہ برآمد نہ کرنے کی وجہ سے اسٹوریج ٹینک بھر گئے ہیں۔ جنگ کے آغاز سے ایران، اسرائیل اور امریکا نے بھی تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی تیل کی فراہمی پر شدید دباؤ پڑا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرمز کے راستے میں رکاوٹ عالمی تیل مارکیٹ کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار اور مالی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، جس نے اسٹاک ایکسچینجز اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔