ایران کے حملے جاری رہے تو اسے بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا: سعودی عرب

سعودی عرب اپنے عوام، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے: سعودی وزارتِ خارجہ
شائع 09 مارچ 2026 01:06pm

سعودی عرب نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں جارحانہ کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو ایران کو اس کی سب سے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز جاری بیان میں ایران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر جاری حملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنے عوام، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

واضح رہے کہ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے حال میں ہی ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کا ہمسایہ ممالک پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں۔ سعودی حکام نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر کی یقین دہانی محض کاغذی ہے کیوں کہ ایران کے حملے اب جاری ہیں۔

سعودی عرب نے ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ سعودی لڑاکا اور ایندھن بھرتی کرنے والے طیارے ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہورہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ طیارے صرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے فضائی حدود کی نگرانی اور ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حفاظت کے لیے گشت کر رہے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے حملے جاری رہے تو اس کے نتیجے میں ایران کو سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک سطح پر سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

Read Comments