نو منتخب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو درپیش بڑے چیلنجز
ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے، تاہم ان کی تقرری کو ایران کے مستقبل کے لیے ایک بڑا اور اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت ایران کو دو مختلف راستوں میں سے کسی ایک طرف لے جا سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر اور نظریاتی رہنما سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ایران کے طاقتور نیم فوجی ادارے ’پاسدارانِ انقلاب‘ اور سرکاری بیوروکریسی کے ساتھ قریبی تعلقات بھی بتائے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض حلقے انہیں ایک سخت مؤقف رکھنے والے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔
تاہم، رائٹرز کے مطابق کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ وہ سابق سپریم لیڈر کے بیٹے ہیں، اس لیے انہیں نظام میں اصلاحات کرنے کے لیے زیادہ سیاسی گنجائش اور جواز بھی حاصل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر کے عہدے پر کسی اور شخصیت کو مقرر کیا جاتا تو ممکن تھا کہ ایران کے سیاسی نظام میں قانونی اور عوامی حیثیت کے حوالے سے ایک بڑا بحران پیدا ہو جاتا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری نے اس امکان کو کسی حد تک کم کر دیا ہے کیونکہ وہ براہِ راست سابق قیادت سے جڑے ہوئے ہیں اور نظام کے اندر ان کی شناخت پہلے سے موجود ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کی قیادت میں ایران کا راستہ دو مختلف سمتوں میں جا سکتا ہے۔
ایک امکان یہ ہے کہ وہ اپنے سخت نظریاتی مؤقف کو مزید مضبوط کریں، جس سے ایران کے اندر سیاسی تقسیم بڑھ سکتی ہے اور خطے میں اس کی تنہائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ علاقائی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوشش کریں اور امریکا سمیت عالمی طاقتوں کو یہ اشارہ دیں کہ ایران اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ایران کو ایک نہایت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔
ملک اِس وقت اُس جنگ کے اثرات سے گزر رہا ہے جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا۔ اس صورتحال نے ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
ایران کے سیاسی اور فوجی اداروں کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے لیے حمایت کے پیغامات سامنے آچکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ڈھانچے کے اہم حصے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تاہم چیلنجز صرف بیرونی محاذ تک محدود نہیں ہیں بلکہ داخلی سطح پر بھی کئی سنگین مسائل موجود ہیں۔
معاشی میدان میں ایران گزشتہ کئی برسوں سے بین الاقوامی پابندیوں اور داخلی بدانتظامی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق نئی قیادت کو سب سے پہلے اسی کمزور معیشت کو سنبھالنے کے لیے مؤثر فیصلے کرنا ہوں گے کیونکہ عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
سماجی اور عوامی سطح پر بھی صورتحال پیچیدہ ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے اعلان کے بعد تہران کے مختلف علاقوں میں لوگ جمع ہوئے۔ شہر کے مرکزی علاقوں میں ان کے حامیوں نے نئے سپریم لیڈر کے حق میں اظہارِ حمایت کیا جبکہ انقلاب اسکوائر جیسے اہم سیاسی مقام پر بھی اجتماعات دیکھنے میں آئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران میں ایک طرف قومی اتحاد کا جذبہ دکھائی دے رہا ہے جہاں لوگ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف معاشرہ پہلے ہی سیاسی اور سماجی طور پر تقسیم کا شکار ہے۔
گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے تھے۔ ابتدا میں یہ مظاہرے معاشی مشکلات کے خلاف تھے، لیکن بعد میں ان میں سیاسی اور سماجی مطالبات بھی شامل ہو گئے تھے۔ اس پس منظر میں نئی قیادت کے لیے عوامی توقعات اور دباؤ دونوں موجود ہیں۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ان تمام پیچیدہ مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ایران کی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لائیں گے یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ ایران نئی قیادت میں کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔