امریکا نے روسی مافیا سے دماغ پگھلانے والا خفیہ ہتھیار حاصل کرلیا: امریکی میڈیا کا دعویٰ

ماضی میں سوویت یونین کے سائنس دانوں نے اس قسم کی ٹیکنالوجی پر کافی تحقیق کی تھی۔
شائع 09 مارچ 2026 04:40pm

امریکا نے روس کے انڈر ورلڈ مافیا سے ایک ایسا خفیہ آلہ حاصل کیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اُن پراسرار دماغی چوٹوں کی وجہ بن سکتا ہے جن کا شکار امریکی سفارت کار، خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار اور فوجی افسر ہوتے آرہے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کی ایک تحقیق کے مطابق اس ڈیوائس کو امریکا کے ایک فوجی اڈے پر خفیہ طور پر جانوروں پر آزمایا گیا، جن میں چوہے اور بھیڑیں شامل تھیں۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان تجربات میں ایسی علامات سامنے آئیں جو ان امریکی اہلکاروں میں بھی دیکھی گئی تھیں جو ’حوانا سنڈروم‘ کا شکار ہوئے تھے۔

یہ مسئلہ پہلی بار 2016 میں اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب کیوبا میں تعینات امریکی سفارت کاروں نے عجیب و غریب علامات کی شکایت کی۔

متاثرہ افراد نے بتایا کہ انہیں اچانک شدید دباؤ یا کسی غیر مرئی طاقت کے حملے کا احساس ہوتا تھا جس کے بعد ان کی سماعت، بینائی، توازن اور یادداشت متاثر ہو جاتی تھی۔

بعد ازاں اسی نوعیت کے واقعات چین، یورپ اور امریکا کے اندر بھی رپورٹ ہوئے۔

متاثرہ افراد میں شامل لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ایک سابق امریکی فوجی افسر کرس نے بتایا کہ 2020 میں انہیں اپنے گھر میں پانچ مرتبہ ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق پہلی بار ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے گلے پر زور سے ضرب لگائی ہو اور کان بند ہو گیا ہو، جس کے بعد بازو میں شدید درد شروع ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اور موقع پر انہیں یوں محسوس ہوا جیسے سر کو کسی مضبوط شکنجے میں جکڑ لیا گیا ہو جس کے باعث وہ شدید چکر اور الجھن کا شکار ہو گئے۔

کرس کے مطابق ایک حملے کے دوران ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں میں شدید اکڑاؤ پیدا ہو گیا اور انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ریڑھ کی ہڈی جل رہی ہو۔

سب سے شدید واقعہ دسمبر میں پیش آیا جب وہ شدید درد اور پورے جسم میں جھٹکوں کے ساتھ بیدار ہوئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں روزانہ اعصابی بیماریوں کی دوائیں لینا پڑتی ہیں اور ان کے جسم کے کئی نظام متاثر ہو چکے ہیں۔

کرس کی اہلیہ ہائڈی نے بھی بتایا کہ انہیں اچانک پورے جسم میں جوڑوں کا درد شروع ہو گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے کندھے کی ہڈی میں ایک بیماری پیدا ہو گئی ہے جس میں ہڈی آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگتی ہے۔ انہیں اس کے لیے سرجری کرانا پڑی۔

اس طرح کے واقعات صرف چند افراد تک محدود نہیں رہے۔ امریکی ایف بی آئی کی ایک خاتون اہلکار نے بتایا کہ انہیں اچانک اپنے کان میں ایسا شور محسوس ہوا جیسے کوئی ڈرل مشین چل رہی ہو۔ اسی طرح چین میں تعینات ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ انہیں سر کے دونوں جانب شدید دباؤ اور درد محسوس ہوا۔

ان واقعات کی مماثلت نے ماہرین کو حیران کیا کیونکہ متاثرہ افراد ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں تھے لیکن ان کی علامات تقریباً ایک جیسی تھیں۔

اس کے باوجود کئی سال تک امریکی حکومت کے بعض اداروں نے ان واقعات کو حملہ ماننے سے انکار کیا اور بعض تحقیقات میں انہیں ماحولیاتی اثرات، بیماری یا اجتماعی ذہنی دباؤ قرار دیا گیا۔

2023 میں جاری ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ یہ واقعات کسی غیر ملکی طاقت کے حملوں کا نتیجہ ہوں۔ تاہم بعض سائنس دان اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ڈیوڈ ریلمین کا کہنا ہے کہ ان کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان واقعات کی سب سے ممکنہ وجہ ریڈیو فریکوئنسی یا مائیکروویو توانائی ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق یہ ایسی برقی مقناطیسی لہریں ہوتی ہیں جو مخصوص انداز میں استعمال ہونے پر دماغی خلیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر ریلمین کا کہنا ہے کہ ماضی میں سوویت یونین کے سائنس دانوں نے اس قسم کی ٹیکنالوجی پر کافی تحقیق کی تھی۔

ان کے مطابق ایسی لہریں بے ہوشی، دورے، یادداشت کی کمزوری، سر درد، توازن کے مسائل اور شدید دباؤ جیسی علامات پیدا کر سکتی ہیں۔

سی بی ایس نیوز کی تحقیقات کے دوران ایک سابق سی آئی اے افسر نے بھی انکشاف کیا کہ ایجنسی کے اندر اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

ان کے مطابق بعض افسران کا مقصد اس مسئلے کی اصل وجہ معلوم کرنا نہیں بلکہ اسے کم اہم ثابت کرنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس رویے کی وجہ سے کئی متاثرہ اہلکار مایوس ہوئے اور بعض نے ملازمت بھی چھوڑ دی۔

تحقیق کے مطابق 2024 میں امریکی حکام نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران ایک روسی جرائم پیشہ نیٹ ورک سے ایک چھوٹا مائیکروویو ہتھیار خریدا۔

بتایا جاتا ہے کہ اس کارروائی پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر خرچ ہوئے اور اسے امریکی محکمہ دفاع نے فنڈ کیا۔

ذرائع کے مطابق یہ آلہ عام ہتھیاروں جیسا نہیں دکھائی دیتا بلکہ اسے چھپانا آسان ہے اور ایک شخص آسانی سے اسے اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔

یہ آلہ خاموشی سے کام کرتا ہے اور اس کی شعاع چند سو فٹ تک جا سکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ شعاع کھڑکیوں اور دیواروں کے پار بھی اثر ڈال سکتی ہے اور اسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہتھیار کی خاص بات اس کا سافٹ ویئر ہے جو مخصوص انداز میں برقی مقناطیسی لہریں پیدا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہی خصوصیت اسے انسان کے دماغی نظام پر اثر انداز ہونے کے قابل بناتی ہے۔

امریکی ذرائع کے مطابق اس آلے کو ایک سال سے زیادہ عرصے تک فوجی لیبارٹری میں جانوروں پر آزمایا گیا اور نتائج نے انسانی متاثرین جیسی علامات ظاہر کیں۔

اسی دوران کچھ خفیہ ویڈیوز بھی جمع کی گئیں جن میں مبینہ طور پر ایسے واقعات ریکارڈ ہوئے جہاں امریکی اہلکار اچانک درد سے متاثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس معاملے پر امریکی حکومت کے مختلف اداروں کے مؤقف میں اب بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

امریکا کے نیشنل انٹیلی جنس آفس نے کہا ہے کہ اس مسئلے پر نئی جامع تحقیقات جاری ہیں اور نتائج سامنے آنے کے بعد عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے اپنی بات پر یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ نئی معلومات سامنے آنے کے بعد ان کے تجربات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

بعض متاثرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کی قربانی کو تسلیم کرے اور انہیں مناسب طبی اور سرکاری اعزازات فراہم کرے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس قسم کے ہتھیار واقعی موجود ہیں تو یہ عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن سکتے ہیں کیونکہ ان کا استعمال خفیہ طور پر کسی بھی جگہ کیا جا سکتا ہے۔

Read Comments