وفاقی حکومت کا جمعے کو بھی ہفتہ وار چھٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم نے کفایت شعاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کا بھی حکم دے دیا۔
شائع 10 مارچ 2026 06:23pm

موجودہ علاقائی صورت حال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ہفتہ وار اضافی چھٹی جمعے کے روز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

منگل کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے حوالے سے حکومتی اعلان کردہ اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس ہوا۔

وزیراعظم نے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو سادگی، کفایت شعاری اور توانائی کے بچت کے حوالے سے اقدامات کو بھرپور طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ تمام وزارتیں اور ادارے کفایت شعاری کے تحت بند کی گئی گاڑیوں کی تصاویر کابینہ ڈویژن کو بھیجیں، ورک فرام ہوم کو مؤثر بنانے کے حوالے سے ہر وزارت اپنی رپورٹ وزیراعظم آفس بھیجے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہرممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے، اسحاق ڈار کی زیر قیادت خصوصی کمیٹی کردی گئی ہے جوکہ روزانہ کی بنیاد پراقدامات کا جائزہ لے کررپورٹ پیش کرے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔

سرکاری اداروں میں جمعے کو ورک فرام ہوم دینے کا فیصلہ

دوسری جانب خطے میں توانائی بحران کے باعث سندھ حکومت نے سرکاری اداروں میں جمعہ کو ورک فرام ہوم دینے اور صوبائی وزرا نے تین ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی وزرا اپریل، مئی اور جون کی تنخواہ نہیں لیں گے جب کہ اسکول 16 سے 31 مارچ تک بند ہوں گے تاہم امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ جمعہ کو سرکاری دفاتر میں تعطیل نہیں ہوگی بلکہ ورک فرام ہوم ہوگا، وزرا نے پولیس سیکیورٹی کی گاڑیاں سرینڈر کی ہیں جب کہ نئی گاڑیوں اور فرنیچر خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے، سرکاری دفاتر میں ریفریشمنٹ پر 2 ماہ کے لیے پابندی عائد ہوگی۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ ایندھن کی بچت کو یقینی بنایا جائے، کل ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اس متعلق میٹنگ کی جائے گی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عوام پر برا اثر پڑا ہے، جن ٹرانسپورٹرز نے ازخود کرائے بڑھائے ہیں،ان کے خلاف کارروائی کرکے بعض کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سندھ حکومت نے پیٹرول بچاؤ منصوبے کی منظوری دے دی

ادھر سندھ حکومت نے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے صوبے کی تاریخ کے بڑے کفایت شعاری اور پیٹرول بچاؤ منصوبے کی منظوری دے دی ہے جب کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کے دوران کابینہ نے 23 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا، منصوبے کے تحت سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے، جس سے خزانے کو 96 کروڑ روپے سے زائد کی بچت ہوگی، یہی نہیں، آئندہ دو ماہ تک 60 فیصد سرکاری گاڑیاں سڑکوں پر نہیں آئیں گی جب کہ وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی نے تین ماہ تک تنخواہیں نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

توانائی بچانے کے لیے سندھ میں اب چار روزہ ورک ویک نافذ ہوگا جب کہ دفاتر کے 50 فیصد عملے کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تعلیمی میدان میں بھی بڑی تبدیلی لائی گئی، اسکولوں میں 16 سے 31 مارچ تک چھٹیاں ہوں گی جب کہ کالجوں اور جامعات میں سو فیصد آن لائن کلاسز لی جائیں گی۔

عوام کے لیے بھی نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ موٹرویز اور شاہراہوں پر رفتار کی حد کم کر دی گئی ہے جب کہ شادی کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود اور ون ڈش کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

اجلاس میں خواتین زرعی ورکرز کے لیے ’بینظیر کارڈ‘ کے اجرا، گندم کی قیمت 8 ہزار روپے فی بوری مقرر کرنے اور اسکولوں میں ڈیجیٹل حاضری کے نظام ’سامرس‘ کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی ریلیف کو یقینی بنانا ہے۔

Read Comments