مجتبیٰ خامنہ ای پر بھروسہ نہیں، ایران سے مذاکرات مخصوص شرائط پر ہوں گے: ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ممکن ہے، تاہم یہ مذاکرات مخصوص شرائط پر منحصر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اس وقت مذاکرات کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے، لیکن امریکا ایران کی قیادت پر مکمل اعتماد نہیں کر سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پر بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے موجودہ حالات میں سکون سے رہنا آسان نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو اسے پہلے کچھ بنیادی شرائط کو قبول کرنا ہوگا۔
دوسری جانب امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ جنگ کے دوسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ایران کی قیادت دباؤ کا شکار ہے اور حالات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اس جنگ کو اپنے طے کردہ وقت کے مطابق ختم کرے گا اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہیں دی جاتی۔
پیٹ ہیگستھ نے روس کو بھی خبردار کیا کہ وہ اس تنازع میں مداخلت سے گریز کرے۔
امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو صدر ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایران میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے حملے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا گیا۔
اس حوالے سے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ ان کے مطابق امریکا نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام ماضی میں مشرق وسطیٰ کی طویل جنگوں میں الجھنے کے خلاف ووٹ دے چکے ہیں، تاہم ایران کے خلاف جاری جنگ کے اختتام کے بارے میں حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ ہی کریں گے۔
ادھر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکی فوج نے حال ہی میں ایران کے زیر زمین میزائل اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں دو ہزار پاؤنڈ وزنی خصوصی بم استعمال کیے ہیں۔
ان کے مطابق یہ ہتھیار زمین کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
جنرل ڈین کین نے یہ بھی کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن جاری جنگ کے باعث اس علاقے میں جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔