پانچ سالہ چینی بچے نے ریسنگ لائسنس حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا

ان کی غیر معمولی کارکردگی کے بعد ان کے والد نے خصوصی طور پر ان کے لیے ایک ریلی کار تیار کروائی۔
شائع 13 مارچ 2026 09:29am

چین سے تعلق رکھنے والے پانچ سالہ بچے نے موٹر اسپورٹس کی دنیا میں حیران کن کارنامہ انجام دیتے ہوئے کم عمری میں ہی پیشہ ورانہ ریسنگ ڈرائیور کا لائسنس حاصل کر لیا ہے۔ غیر معمولی مہارت کے باعث شاؤ زی یان کو چین کا کم عمر ترین لائسنس یافتہ ریسنگ ڈرائیور قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اپنی صلاحیتوں سے شائقین اور ماہرین دونوں کو حیران کر دیا ہے۔

شاؤ زی یان کی دلچسپی کار ریسنگ میں بہت کم عمری سے ہی ظاہر ہونا شروع ہوگئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے تقریباً ایک سال کی عمر میں ہی ریسنگ سمیولیٹر گیمز کھیلنا شروع کر دی تھیں، جس کے ذریعے انہیں گاڑی چلانے اور ریسنگ کی بنیادی سمجھ حاصل ہوئی۔

بعد ازاں دو سال اور آٹھ ماہ کی عمر میں انہوں نے گو کارٹس چلانا شروع کر دیا، جبکہ چار سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ باقاعدہ ریسنگ مقابلوں میں حصہ لینے لگے۔ اسی دوران انہوں نے مختلف ایونٹس میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا اور 2023 کی چائنا ریلی اسپرنٹ چیمپئن شپ میں ”ہوپ اسٹار ایوارڈ“ بھی حاصل کیا۔

شاؤ کی مہارت صرف حقیقی ریسنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ آن لائن ریسنگ سمیولیٹر مقابلوں میں بھی انہوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ ایک عالمی سمیولیٹر مقابلے میں انہوں نے دس ہزار سے زائد شرکاء کے درمیان 27ویں پوزیشن حاصل کی، جبکہ مشہور ریسنگ گیمز میں وہ دنیا کے بہترین ڈرائیورز کی فہرست میں شامل رہے۔

ان کی غیر معمولی کارکردگی کے بعد ان کے والد نے خصوصی طور پر ان کے لیے ایک ریلی کار تیار کروائی۔ 9 اپریل 2023 کو شاؤ زی یان نے رَن ریسنگ ڈرائیونگ اکیڈمی سے ٹریننگ سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جسے چین آٹوموبائل اینڈ موٹر سائیکل فیڈریشن کی منظوری حاصل ہے۔ اس سرٹیفکیٹ کے بعد وہ باضابطہ طور پر ریسنگ ڈرائیور کے طور پر تسلیم کیے گئے۔

گزشتہ سال انہوں نے ایک تبدیل شدہ ریس کار کے ساتھ چائنا وویئی آٹوموبائل ریلی میں بھی حصہ لیا، جہاں ان کی کارکردگی نے شائقین کو متاثر کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شاؤ کی تربیت اور تیاری پر ان کے والد نے تقریباً آٹھ لاکھ یوآن (تقریباً ایک لاکھ سولہ ہزار ڈالر) خرچ کیے، جس میں جدید ریسنگ سمیولیٹرز اور ریس کارز شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریلی مقابلوں کے دوران ان کے والد ہی شریک پائلٹ کے طور پر گاڑی میں موجود ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ شاؤ زی یان عوامی سڑکوں پر گاڑی نہیں چلاتے بلکہ ان کی ریس کارز کو قوانین کے مطابق ٹریلرز کے ذریعے ریس کے مقامات تک پہنچایا جاتا ہے۔ کم عمری میں حاصل ہونے والی اس کامیابی کے باعث انہیں دنیا کے کم عمر ترین پیشہ ور ریسنگ ڈرائیورز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

Read Comments