سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبریں: حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر مسلسل اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی ہلاکت سے متعلق خبریں تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔ ان دعوؤں میں کہا گیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایرانی فضائی حملے میں نیتن یاہو مارے جا چکے ہیں۔
یہ دعوے خاص طور پر حالیہ پریس کانفرنس کے بعد زور پکڑ گئے، لیکن اسرائیلی میڈیا اور حکام نے ان سب کو جھوٹا قرار دیا ہے۔
بعض پوسٹس میں ان کے بھائی ایڈو نیتن یاہو اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے زخمی ہونے کے دعوے بھی شامل تھے۔
یہ دعوے فضائی حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر کے ساتھ شیئر کیے گئے، اور بعض میں سابق امریکی انٹیلی جنس افسر اسکاٹ رِٹر کے تبصروں کا حوالہ بھی دیا گیا۔
صارفین نے حالیہ پریس کانفرنس میں نیتن یاہو کے اندازِ گفتگو اور حرکات کو بھی اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں ان کی چھ انگلیاں دکھائی گئی ہیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کی رپورٹس میں نیتن یاہو پر کسی حملے یا زخمی ہونے کا مصدقہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا تاہم ان رپورٹس میں صرف چند بالواسطہ عوامل جیسے ان کی منظرعام سے غیر موجودگی اور ان کی رہائش گاہ کے ارد گرد سیکیورٹی میں اضافے کا ذکر شامل ہے۔
ان قیاس آرائیوں کو اس لیے بھی تقویت ملی کیونکہ نیتن یاہو کے ذاتی چینل پر ویڈیوز کے درمیان بھی تین سے چار دن طویل وقفہ ہوا جب کہ اس سے پہلے روزانہ کم از کم ایک یا تین وڈیوز شیئر کی جاتی تھیں۔
اس دعوے کو اس وقت مزید تقویت ملی جب امریکی اور فرانسیسی سیاسی شخصیات نے اسرائیل کے دورے منسوخ کردیے۔
اسرائیلی حکام اور بین الاقوامی میڈیا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو کا دفتر بھی ان خبروں کو فیک نیوز کہہ کر مسترد کر چکا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اپنے سرکاری فرائض جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے 10 مارچ کو نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا، 11 مارچ کو اشدود بندرگاہ کا معائنہ کیا اور 12 مارچ کو پریس کانفرنس کی اور ان تمام مواقع کی ویڈیوز عوامی طور پر جاری کی گئی ہیں۔
صارفین نے آن لائن گردش کرنے والی نیتن یاہو کی وہ تصاویر اور ویڈیوز جنہیں ایران پر حملوں کے بعد منظرعام پر آنا کہا گیا، مصنوعی ذہانت سے تیار قرار دیا جارہا ہے۔
نیتن یاہو کی جاری کردہ نئی ویڈیو جسے اسرائیلی میڈیا نے پریس کانفرنس کہہ کر پیش کیا، اس میں ان کی انگلیوں کی بے ترتیب ساخت کے باعث نیتن یاہو کے زندہ ہونے پر اٹھنے والے سوالات نے مزید تقویت پکڑ لی ہے۔