ایران اپنا دفاع ضرور کرے، لیکن پڑوسیوں کو نشانہ نہ بنائے: حماس کا مشورہ
فلسطینی تنظیم حماس نے ایران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ردعمل کے دوران ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کو ایسا ردعمل اختیار کرنا چاہیے جس سے دیگر ممالک براہِ راست متاثر نہ ہوں۔ ساتھ ہی حماس نے عالمی برادری اور خطے کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔
مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب حماس نے ایران کی پالیسیوں کے حوالے سے عوامی سطح پر اس نوعیت کا تبصرہ کیا ہے۔ اس سے قبل تنظیم جنگ کے دوران ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی ہے، تاہم اب تک اس نے کسی ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی دینے سے گریز کیا تھا۔
اُدھر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، لیکن اس کے بعد وقفے وقفے سے تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، تاہم بعد میں ان حملوں میں دوبارہ اضافہ رپورٹ ہوا۔
دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے۔
گروپ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔
اسی دوران حوثی تحریک، جو یمن میں سرگرم ہے اور ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے بھی تہران کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اس گروپ نے غزہ کی جنگ کے دوران بحیرہ احمر میں اُن جہازوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی تھیں جنہیں وہ اسرائیل سے منسلک سمجھتا تھا، تاہم اب تک اس نے دوبارہ حملے شروع کرنے کی کوئی واضح دھمکی نہیں دی۔