آبنائے ہرمز کھلوا دیں گا یا ساحلی پٹی تہس نہس کردیں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تو امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ کو ہر صورت کھلا رکھے گا، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر ساحلی علاقوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر ہو سکتے ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر اس آبی راستے کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ کون سے ممالک اس اقدام میں عملی طور پر شامل ہوں گے۔
امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس کوشش میں حصہ لیں گے تاکہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اس دوران امریکہ ایرانی کشتیوں اور جہازوں کو نشانہ بناتا رہے گا اور اگر ضرورت پڑی تو ساحلی پٹی پر شدید بمباری کی جائے گی تاکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار اسی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر اس راستے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ کن ممالک نے اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔