ہائی بلڈ پریشر صرف دل نہیں، گردوں کے لیے بھی وارننگ ہے

دل اور گردوں کے درمیان تعلق پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
شائع 17 مارچ 2026 12:23pm

ہائی بلڈ پریشر کو عام طور پر ”خاموش قاتل“ کہا جاتا ہے، لیکن اس کی خاموشی سب سے زیادہ گردوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

ہم اکثر ہائی بلڈ پریشر کو سینے میں درد، دل کے دورے یا فالج سے جوڑتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر کا پہلا نشانہ وہ باریک چھلنیاں ہو سکتی ہیں جو ہمارے خون کو صاف کرتی ہیں۔

ٹائمزآف انڈیا کے مطابق دہلی کے معروف نیفرولوجسٹ ڈاکٹر نمش گپتا کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر دراصل گردوں کی تباہی کا وہ الارم ہے جسے ہم اکثر ان سنا کر دیتے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر گردوں کے چھوٹے فلٹرنگ یونٹس یعنی گلومیریولی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ زیادہ فشار خون مستقل طور پر ان چھوٹے فلٹرز پر دباؤ ڈالتا ہے، جس سے دیواریں موٹی ہو جاتی ہیں اور فلٹرنگ کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً کچھ یونٹس ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

یہ عمل دن بہ دن اور سالوں تک خاموشی سے ہوتا رہتا ہے بدقسمتی سے، جب تک خون کے ٹیسٹ میں کوئی بڑی خرابی ظاہر ہوتی ہے، تب تک گردوں کا ایک بڑا حصہ ناکارہ ہو چکا ہوتا ہے۔

وہ علامات جنہیں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں
گردوں کی بیماری ہمیشہ شدید درد یا پیشاب میں رکاوٹ کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی۔ ابتدائی اشارے بہت معمولی اور آہستہ آہستہ نظر آتے ہیں، جیسے کہ پیشاب میں غیر معمولی جھاگ، جو اس بات کی علامت ہے کہ پروٹین خون میں رہنے کے بجائے گردوں سے لیک ہو رہا ہے، جسمانی سوجن یا پفنس، خاص طور پر ٹخنوں، پیروں یا آنکھوں کے گرد، جو وقت کے ساتھ مستقل ہو جاتی ہے اور غیر معمولی تھکن یا متلی، کیونکہ جب گردے زہریلے مادے صاف نہیں کر پاتے تو جسم میں سستی اور تھکن بڑھ جاتی ہے۔

اکثر مریض اپنے بلڈ پریشر کی ریڈنگ تو باقاعدگی سے چیک کرتے ہیں، لیکن گردوں کے ٹیسٹ کو بھول جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو سال میں کم از کم ایک بار گردوں کے افعال اور پیشاب کا تفصیلی معائنہ ضرور کروانا چاہیے۔ محض ادویات سے بلڈ پریشر کنٹرول کر لینا کافی نہیں ہے، کیونکہ برسوں پرانی بیماری خاموشی سے گردوں کی بنیادیں کھوکھلی کر سکتی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کے لیے عام طور پر یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ نمک کم کھائیں، پراسیسڈ کھانوں سے پرہیز کریں اور خوراک متوازن رکھیں۔ یہ آسان لگتا ہے، لیکن حقیقت میں مسئلہ اکثر چھپے ہوئے ذرائع میں ہوتا ہے۔

کئی گھروں میں نمک صرف شیکر سے نہیں ڈالا جاتا بلکہ اچار، چٹنیاں، پیک شدہ مصالحے اور تیار کھانے بھی نمک سے بھرے ہوتے ہیں اور کچھ کھانے ذائقے میں اتنے نمکین نہ لگیں مگر جسم میں نمک کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔

وقت کے ساتھ یہ گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے کیونکہ گردے جسم کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنے لگتے ہیں۔ نمک کم کرنے کا مطلب کھانے کا بے ذائقہ ہونا نہیں بلکہ چھپے ہوئے نمک کے ذرائع کے بارے میں ہوشیار رہنا، لیبل پڑھنا اور روزمرہ کے کھانے پر نظر ثانی کرنا ہے۔

دل اور گردوں کے درمیان تعلق پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ طبی تحقیق میں اس تعلق کو ”کارڈیو رینل کنکشن“ کہا جاتا ہے، لیکن زیادہ تر لوگ صحت کے اس پہلو سے واقف نہیں۔

دل اور گردے الگ الگ چیزیں سمجھ لی جاتی ہیں اور جب واضح علامات نظر نہ آئیں تو سب ٹھیک سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت میں جسم ایک دوسرے سے جڑا ہوا نظام ہے۔ ایک مسئلہ دوسرے حصے پر اثر ڈال سکتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر اس حساس نقطے پر موجود رہتا ہے۔

Read Comments