مدھیہ پردیش میں رمضان کی 400 سالہ منفرد روایت
مدھیہ پردیش کا تاریخی شہر بُرہان پور اپنی مغلیہ تاریخ کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کی چند انتہائی منفرد اور خوبصورت روایات کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہاں کی روایات جدید دور میں بھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہیں۔
برہان پور میں ایک منفرد روایت آج بھی زندہ ہے، جو تقریباً 400 سال پرانی ہے۔ یہاں روزہ دار شاہی جامع مسجد کے مینار پر روشنی دیکھ کر افطار کرتے ہیں۔
جن علاقوں میں جامع مسجد کے مینار کی روشنی واضح نہیں ہوتی، وہاں مقامی مساجد کے ذریعے افطار کے اعلانات کیے جاتے ہیں۔
یہ روایت مغلیہ دور سے چلی آ رہی ہے۔ برہان پور کے حکمران عادل شاہ فاروقی نے 1585 میں سیاہ پتھر سے جامع مسجد تعمیر کروائی، جو تقریباً 14 سال میں مکمل ہوئی۔ اس مسجد میں دو مینار 125 فٹ بلند ہیں۔
1960 کی دہائی میں رمضان میں روزہ توڑنے کا وقت توپ چلانے کے ذریعے بتایا جاتا تھا، بعد میں پٹاخوں کے ذریعے اعلان کی روایت شروع ہوئی، جسے مقامی زبان میں ”گج کنڈی“ کہا جاتا ہے۔
روشنیوں کا سلسلہ 1974 میں شروع ہوا اور 1980 میں مسجد کے دونوں میناروں پر مستقل روشنیوں کا انتظام کیا گیا۔ تب سے شہر کے لوگ میناروں پر جلتی روشنی دیکھ کر افطار کا آغاز کرتے ہیں۔
رمضان کے دوران مینار پر پہلے سے لائٹنگ لگائی جاتی ہے۔ جیسے ہی مینار کی روشنی شہر کے مختلف حصوں سے دکھائی دیتی ہے روزہ دار فوراً افطار شروع کر دیتے ہیں۔
دور دراز بستیوں میں رہنے والے لوگ، جہاں شاید اذان کی آواز صاف نہ پہنچتی ہو، اس روشنی کو دیکھ کر روزہ افطار کرتے ہیں۔ یہ ”لائٹ سگنل“ آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی یہاں کے لوگوں کا پسندیدہ ورثہ ہے۔
مینار کی اونچائی تقریباً 60 فٹ ہے، جس کی وجہ سے شہر کے کئی مقامات سے یہ روشنی آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے۔ لوگ اپنے گھروں کی کھڑکیوں یا دروازوں سے بھی مینار کو دیکھ کر افطار کا وقت جان لیتے ہیں۔
اگرچہ آج کے دور میں موبائل فون، گھڑیاں اور ایپس سحری و افطار کے وقت کی معلومات فراہم کرتے ہیں، برہان پور کے لوگ صدیوں پرانی اس روایت پر قائم ہیں۔
مورخین کے مطابق یہ روشنی نہ صرف افطار کے لیے استعمال کی جاتی ہے بلکہ عید کی آمد کی بھی نوید دیتی ہے۔ جیسے ہی عید کا چاند نظر آتا ہے، جامع مسجد کے مینار پر چراغ جلایا جاتا ہے۔
شاہی جامع مسجد شہر کی تاریخی شناخت کا حصہ ہے اور رمضان کے دوران اس کا مینار نہ صرف عبادت کی علامت بلکہ کمیونٹی کے لیے وقت کا پیمانہ بھی بن جاتا ہے۔ افطار کے وقت مینار کی روشنی شہر بھر میں روزہ داروں کے لیے خوشی اور اتحاد کا پیغام پہنچاتی ہے۔
یہ روایت نہ صرف برہان پور کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ رمضان کے دوران لوگوں میں روحانی ہم آہنگی اور اجتماعی عبادت کے جذبات کو بھی بڑھاتی ہے۔