ایران نے اپنی فوجی طاقت کا اب تک معمولی حصہ استعمال کیا ہے: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی فوجی طاقت کا اب تک صرف معمولی حصہ استعمال کیا ہے اور اگر ایرانی انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اب تک ایران نے کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا اور عالمی برادری کی درخواستوں پر عمل کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ ردعمل ایران کی طاقت کا صرف چند فیصد ہے، اور اگر جنگ روکنی ہے تو شہری آبادیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ لازمی ہوگا۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی ہر کارروائی دفاعی نوعیت کی ہے اور کسی بھی اضافی حملے یا خطرے کی صورت میں سخت اور جامع ردعمل دیا جائے گا۔
عباس عراقچی کے مطابق تحمل اور تعمیری اقدامات ہی خطے میں امن کے قیام کی ضمانت ہیں۔
خیال رہے کہ ایران نے امریکا کے انتہائی جدید اور مہنگے ترین جنگی طیارے ایف 35 کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس کی تصدیق امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی کی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پانچویں نسل کا یہ اسٹیلتھ جیٹ طیارہ بحفاظت زمین پر اتر گیا ہے اور اس کا پائلٹ بھی بالکل خیریت سے ہے۔