مشرقِ وسطیٰ جنگ: 40 سے زائد توانائی تنصیبات تباہ، عالمی معیشت اور سپلائی چین شدید متاثر

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل، گیس اور دیگر شعبوں کی عالمی سپلائی طویل عرصہ متاثر رہ سکتی ہے۔
شائع 23 مارچ 2026 02:57pm

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق جنگ کے باعث خطے میں درجنوں توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل و گیس کی عالمی سپلائی کی بحالی میں خاصا وقت لگ سکتا ہے اور منڈیوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

بلومبرگ کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث نو ممالک میں واقع 40 سے زائد توانائی تنصیبات کو شدید یا انتہائی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین میں خلل طویل ہونے کا خدشہ ہے۔

فاتح بیرول نے آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں نیشنل پریس کلب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ تنصیبات میں تیل کے کنویں، ریفائنریز اور پائپ لائنز شامل ہیں، جن کی بحالی میں وقت درکار ہوگا۔

فاتح بیرول کے مطابق تین ہفتوں سے جاری جنگ نے عالمی توانائی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کی شدت 1970 کی دہائی کے دوتیل کے بڑے بحرانوں اور 2022 میں روس-یوکرین جنگ کے دوران گیس مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب تہران پر پیر کی صبح اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سلسلہ تیز ہوا۔ ادھر ایک سینئر امریکی فوجی کمانڈر نے ایران کے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فی الحال محفوظ پناہ گاہوں میں رہیں، جب کہ ایران نے اپنے خلیجی پڑوسی ممالک پر حملے تیز کرنے اور ان کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف تیل اور گیس ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے اہم شعبے جیسے پیٹروکیمیکلز، کھاد، سلفر اور ہیلیم کی تجارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایشیا اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہ توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ 400 ملین بیرل تیل جاری کیا جائے گا، جب کہ ضرورت پڑنے پر مزید ذخائر بھی مارکیٹ میں لائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یورپ اور ایشیا کی حکومتوں کے ساتھ تیل کے ذخائر فراہم کرنے کے امکانات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم مارکیٹ کی صورت حال پر نظر رکھیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم یقیناً اقدامات کریں گے، لیکن پہلے ہم حالات کا جائزہ لیں گے اور رکن ممالک کے ساتھ مشاورت کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی بحران کا اصل حل آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری تجارت کی مکمل بحالی میں ہے، جس کے بغیر عالمی ایندھن سپلائی میں استحکام ممکن نہیں۔

Read Comments