ایک چمچ پروٹین پاؤڈر بھی زہر؟ فٹنس کی دنیا میں کھلبلی

سپلیمنٹس کے پیچھے چھپی کڑوی حقیقت: سیسہ اور آرسینک سے بھرے سپلیمنٹس کا ہولناک سچ۔
شائع 28 مارچ 2026 02:28pm

آج کل فٹنس کا جنون ہو یا بڑھتی عمر میں پٹھوں کی کمزوری کا ڈر، پروٹین پاؤڈر کا استعمال ایک عام رواج بن چکا ہے۔ اکثر لوگ اسے دودھ یا اسموتھی میں ملا کر ایک آسان حل سمجھتے ہیں، لیکن ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ایک حالیہ رپورٹ ہمیں کچھ چونکا دینے والے حقائق بتاتی ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ وہ کون سے خطرات ہیں جو ان رنگین ڈبوں کے اندر چھپے ہو سکتے ہیں۔

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کی رپورٹ کے مطابق پروٹین پاؤڈر کا استعمال جتنا سادہ اور فائدہ مند نظر آتا ہے، اس کے پیچھے اتنے ہی گہرے اور مخفی خطرات چھپے ہو سکتے ہیں۔

عام طور پر لوگ اسے طاقت یا انرجی اور پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ایک آسان حل سمجھتے ہیں، لیکن ماہرِغذائیت کیتھی میک مینس کا کہنا ہے کہ یہ سپلیمنٹس اکثر اضافی شکر، غیر ضروری کیلوریز اور یہاں تک کہ زہریلے کیمیکلز سے بھرپور ہوتے ہیں۔

چونکہ یہ مصنوعات غذائی سپلیمنٹس کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے امریکہ کا ادارہ برائے خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) ان کی تیاری اور لیبلنگ کی اس طرح نگرانی نہیں کرتا جیسے عام ادویات کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے صارفین اکثر اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ وہ اصل میں کیا استعمال کر رہے ہیں۔

امریکا جیسے ملک میں، جہاں معیار کی جانچ کے ادارے انتہائی فعال ہیں، وہاں کے پروٹین پاؤڈرز میں اس قدر خطرناک اجزاء پائے جا سکتے ہیں، تو پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں دستیاب سپلیمنٹس کے معیار اور صحت کے قوانین پر عمل درآمد کی صورتِ حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

میک مینس کے مطابق بعض حالات میں ”کیمیکل سے پاک پروٹین پاؤڈر“ مفید ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا استعمال صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں کرنا چاہیے۔

پروٹین پاؤڈرز کے حوالے سے سب سے تشویشناک انکشاف ”کلین لیبل پروجیکٹ“ کی رپورٹ میں ہوا ہے، جس میں 134 مقبول پروٹین پاؤڈرز کی لیبارٹری میں جانچ کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں کلیدی رائے کیتھی میک مینس کی ہے، جو ہارورڈ سے منسلک ”بریگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل“ میں شعبہ غذائیت (Nutrition) کی ڈائریکٹر ہیں۔

اس تحقیق میں انکشاف ہوا کہ بہت سے پروٹین پاؤڈرز میں سیسہ، آرسینک، کیڈمیم اور پارے (مرکری) جیسی بھاری دھاتیں موجود تھیں۔ ان میں سے کچھ مصنوعات میں“بی پی اے“ نامی کیمیکل کی مقدار مقررہ حد سے 25 گنا زیادہ پائی گئی، جو کینسر اور دیگر سنگین امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ زہریلے مادے یا تو فیکٹری میں تیاری کے دوران شامل ہوتے ہیں یا ان پودوں کے ذریعے آتے ہیں جو آلودہ مٹی میں اگائے جاتے ہیں۔

کچھ پروٹین پاؤڈرز ذائقہ بہتر بنانے کے لیے اتنی زیادہ شکر استعمال کرتے ہیں کہ ایک گلاس دودھ 1200 سے زائد کیلوریز تک پہنچ سکتا ہے اور یہ وزن میں اضافے اور خون میں شوگر کی سطح بڑھنے کا باعث بنتا ہے، جو خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرناک ہوگا۔

ایسے لوگ جنہیں دودھ یا لییکٹوزسے الرجی ہو، انہیں ’وے پروٹین‘ کے استعمال سے پیٹ میں درد، گیس یا بدہضمی کی شکایت ہو سکتی ہے۔

کیا ہمیں پروٹین پاؤڈر کی ضرورت ہے؟ اس کا متبادل کیا ہے؟

ہارورڈ کی ماہرِ غذائیت کیتھی میک مینس کہتی ہیں کہ زیادہ تر صحت مند افراد کو ان پاؤڈرز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک عام عورت کو روزانہ تقریباً 46 گرام اور مرد کو 56 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، جو قدرتی غذا سے باآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ایک عام صحت مند انسان کو اپنی پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کسی پاؤڈر کے بجائے قدرتی غذا پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ روزمرہ کی خوراک میں انڈے، دہی، دالیں، مچھلی، چکن اور گری دار میوے شامل کر کے پروٹین کی مطلوبہ مقدارباآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی قدرتی غذائیں پروٹین کے زیادہ محفوظ ذرائع ہیں۔

سپلیمنٹس کا استعمال صرف اسی صورت میں کرنا چاہیے جب کوئی شخص کینسر کے علاج، شدید کمزوری یا زخموں کے نہ بھرنے جیسی مخصوص طبی صورتِ حال سے گزر رہا ہو، ورنہ عام افراد کے لیے یہ پاؤڈر فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

سب سے اہم اور آخری بات یہ ہے کہ پروٹین پاؤڈر کا استعمال شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ اپنے ڈاکٹر یا نیوٹریشنسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔ یاد رکھیں، قدرت نے ہماری ضرورت کی ہر چیز خالص غذاؤں میں رکھی ہے، اس لیے پاؤڈر کے بجائے پلیٹ پر توجہ دیں۔

Read Comments