سابق سی آئی اے چیف کو ٹرمپ سے زیادہ ایران پر بھروسہ کرنے پر شدید تنقید کا سامنا

حقائق سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، جان برینن
شائع 25 مارچ 2026 10:11am

امریکی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جان برینن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے مؤقف کو ٹرمپ کے دعوؤں سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق جان برینن نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے بیانات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ یقین سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متعدد حقائق سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنی پالیسی کی ناکامی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برینن کے مطابق یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔

سابق سی آئی اے سربراہ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی اور دونوں جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

جان برینن نے واضح طور پر کہا کہ ان کے نزدیک ایران کے بیانات زیادہ حقیقت کے قریب ہیں جبکہ امریکی صدر کے دعوؤں میں تضاد پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے برینن کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ایک ایسے ملک پر یقین کرنا جو دہائیوں سے امریکا کے خلاف نعرے لگاتا آیا ہے، شرمناک ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اور عہدیدار پیٹرک ایڈمز نے بھی برینن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی برینن کے بیان پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں بعض صارفین نے ان کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے اسے موجودہ صورتحال کا عکاس قرار دیا۔

Read Comments