اسرائیل کی روس کو بھی ایران جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش، ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ
اسرائیل ایران جنگ میں روس کو بھی دھکیلنے لگا، اسرائیلی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ کردیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی بحری تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر روس اور ایران کے درمیان ڈرونز، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان کی ترسیل کے لیے ایک سپلائی کوریڈور استعمال کیا جا رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی گئی اور اسے بحیرۂ کیسپین میں اسرائیل کی پہلی معروف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اندرونی آبی گزرگاہ ہے۔ یہ سمندر روس اور ایران کے ان بندرگاہوں کو جوڑتا ہے جو تقریباً 600 میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ راستہ جنگ کے دوران اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے، جو دونوں ممالک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ روس ان ڈرونز کو یوکرین کے شہروں پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران نے انہیں خلیجی خطے میں تنصیبات اور اہداف کے خلاف استعمال کیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں روس مبینہ طور پر سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری فراہم کر رہا ہے تاکہ اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں بندرگاہ بندر انزلی میں موجود متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جنگی بحری جہاز، بندرگاہی انفراسٹرکچر، ایک کمانڈ سینٹر اور مرمت کا شپ یارڈ شامل ہیں۔
رپورٹ میں شامل تصاویر کے مطابق بندرگاہ پر موجود ایرانی بحری ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچا ہے اور کچھ بحری جہاز تباہ ہوئے ہیں، تاہم مجموعی نقصان کا مکمل اندازہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔
سابق اسرائیلی بحری کمانڈر ایلیزر ماروم کے مطابق اس کارروائی کا مقصد روسی ہتھیاروں کی ترسیل کو محدود کرنا اور ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ بحیرۂ کیسپین میں اس کی بحری دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔