ایران کا سپریم لیڈر بننے سے بہتر ہے میں بیروزگار رہوں: ٹرمپ کا طنز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ملک کا سپریم لیڈر بننے سے بہتر ہے میں بیروزگار رہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریپبلکن فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ”انہوں نے (ایران نے) کہا آپ سپریم لیڈر بن جائیں، میں نے کہا ’نو تھینک یو‘ (معذرت)“۔
ٹرمپ کے مطابق ”کسی بھی ملک کی سربراہی سے زیادہ مشکل کام ایران کی قیادت ہے“ اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف کارروائیوں کو اس ملک کی ’مکمل تباہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خفیہ طور پر جنگ بندی چاہتا ہے لیکن داخلی ردعمل کے خوف سے کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ اس طرح کا معاہدہ نہیں کرے گا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے پاکستان سمیت دیگر ذرائع کے ذریعے ایران کو جنگ بندی کی 15 نکاتی تجویز بھی بھجوائی ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے، خطے میں اتحادی گروپوں کی حمایت بند کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے نکات شامل ہیں۔
تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران نے اس کے برعکس اپنی پانچ نکاتی تجویز پیش کی ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی شرائط ایران خود طے کرے گا۔