ایران نے مجھے سپریم لیڈر بنانے کی پیشکش کی: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے غیر رسمی طور پر انہیں ملک کا اگلا سپریم لیڈر بنانے کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا، تاہم تہران نے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریپبلکن فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت نے غیر رسمی طور پر انہیں سپریم لیڈر بنانے کی بات کی، تاہم انہوں نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ٹرمپ کے مطابق ’کسی بھی ملک کی سربراہی سے زیادہ مشکل کام ایران کی قیادت ہے‘ اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔
رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اس منصب پر لایا گیا، تاہم وہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے اور ان کے زخمی ہونے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف کارروائیوں کو’فوجی طور پر مکمل تباہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خفیہ طور پر جنگ بندی چاہتا ہے لیکن داخلی ردعمل کے خوف سے کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔
دوسری جانب ایران نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراھیم ذوالفقاری نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ اس طرح کا معاہدہ نہیں کرے گا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے پاکستان سمیت دیگر ذرائع کے ذریعے ایران کو جنگ بندی کی 15 نکاتی تجویز بھی بھجوائی ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے، خطے میں اتحادی گروپوں کی حمایت بند کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے نکات شامل ہیں۔
تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران نے اس کے برعکس اپنی پانچ نکاتی تجویز پیش کی ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی شرائط ایران خود طے کرے گا۔











