کیا تل ابیب میں کوؤں کا غول، برا شگون یا تباہی کی علامت؟

سوشل میڈیا پر اسرائیل کی تباہی اور ’برے شگون‘ کی بحث جاری۔
شائع 26 مارچ 2026 03:50pm

اسرائیل کے شہر تل ابیب کے آسمان پر ہزاروں کوؤں کی بیک وقت پرواز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ اس پراسرار اور غیر معمولی منظر نے جہاں شہریوں میں تجسس پیدا کیا ہے، وہی تشویش کی لہر بھی دوڑا دی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بالخصوص ایکس پر صارفین کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوؤں کے غول کے غول شہر کے اوپر منڈلا رہے ہیں۔ ان مناظر کو دیکھ کر انٹرنیٹ صارفین مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔

کئی صارفین نے اسے اسرائیل کے لیے نحوست یا بڑی تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے کو اسرائیل کے لیے ’برا شگون‘ بھی قرار دیا ہے۔

ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”ایسا منظر کوئی بھی ملک کبھی نہیں دیکھنا چاہتا، کیونکہ یہ سب مکمل تباہی کی علامت ہو سکتا ہے۔“

ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تل ابیب کے آسمان پر ہزاروں کّووں کا ایک ساتھ اڑنا، اسے بہت سے لوگ ”عذاب کا پیش خیمہ“ سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے بعد اکثر تباہی آتی ہے، اور یہ ایک نہایت نایاب منظر ہے جسے کوئی ملک دیکھنا نہیں چاہتا۔

جہاں سوشل میڈیا پر اسے مافوق الفطرت واقعات سے جوڑا جا رہا ہے، وہیں سائنسی ماہرین اور پرندہ شناسوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خالصتاً فطری عمل ہے جس کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں۔

یہ غول کے غول کّوؤں کے جھنڈ کا پرواز کرنا، ان کی نقل مکانی ہوسکتی ہے جوموسم کی تبدیلی کے باعث محفوظ اور گرم مقامات کی تلاش، یا وافر خوراک کے حصول کے لیے ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ایک دفاعی حکمتِ عملی بھی ہوسکتی ہے، جس میں پرندے شکاریوں سے بچاؤ اور اپنی حفاظت یقینی بنانے کے لیے بڑے غول بنا کر اڑتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ منظر بصری طور پر حیران کن ہے، لیکن اسے کسی بھی قسم کی آفات یا سیاسی حالات سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ یہ پرندوں کی زندگی کا ایک عام حصہ ہے جو وقت اور ضرورت کے مطابق پیش آتا رہتا ہے۔

Read Comments