موسمیاتی بیماریوں سے بچانے کے لیے جسم کو ٹرین کرنے کا طریقہ
کبھی کبھی آپ بالکل ٹھیک ہوتے ہیں اور اپنے روٹین کے کام تندہی سے انجام دے رہے ہوتے ہیں کہ اگلے ہی دن اچانک چھینکیں، تھکن یا بخار شروع ہو جاتا ہے؟ یہ عام طور پر اتفاق نہیں ہوتا، بلکہ موسم کی تبدیلی کا اثر ہوتا ہے۔ گرم دن، سرد شامیں یا اچانک بارش، یہ سب جسم پر دباؤ ڈالتی ہیں اور مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق میکس سپر اسپیشلٹی ہسپتال کی ڈاکٹر اور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر زینت احمد کہتی ہیں کہ، ’موسمی تبدیلی جسم کی فزیالوجی پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ درجہ حرارت اور نمی میں اتار چڑھاؤ ہماری ناک اور گلے کی جھلیوں کے دفاعی نظام کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے وائرس جسم میں آسانی سے داخل ہو سکتے ہیں۔
خشک اور سرد ہوا ان وائرسز کے پھیلاؤ کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے۔ نیند، خوراک اور روزمرہ کی عادات میں تبدیلی بھی مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔’
اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا ہم موسم بدلنے سے پہلے اپنے جسم کو اس کے لیے تیار کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر زینت احمد کے مطابق مکمل طور پر موسم کی تبدیلی سے محفوظ ہونا ممکن نہیں، لیکن جسم کی موافقت بڑھائی جا سکتی ہے۔
اس کے لیے مناسب نیند، متوازن خوراک، روزانہ ورزش، پانی کی کافی مقدار اور دباؤ کا انتظام ضروری ہے۔ ماحول کی تبدیلی کے سامنے آہستہ آہستہ آنا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ایتھارتھ سپر اسپیشلٹی ہسپتال کے ڈاکٹر سنتوش کمار اگروال نے ان علامات کی نشاندہی کی ہے جو بتاتی ہیں کہ آپ کا جسم موسمی تناؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ ان میں تھکن، بار بار چھینکیں آنا، جلد کا خشک ہونا، سر درد، گلے میں ہلکی سی خراش اور بھوک میں کمی شامل ہیں
ڈاکٹر اگروال کے مطابق، ۔وٹامن سی، وٹامن ڈی، زنک جیسی غذائی سپلیمنٹس اس صورت میں کارآمد ہیں اگر جسم میں ان کی کمی ہو۔
اس کے علاوہ روایتی ٹوٹکے جیسے ادرک کی چائے، ہلدی والا دودھ اور جوشاندہ علامات کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، بشرطیکہ انہیں ایک صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ اپنایا جائے۔
ڈاکٹر سنتوش کے مطابق بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور وہ افراد جو دمہ یا ذیابیطس جیسے دائمی امراض کا شکار ہیں، موسم کی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ درجہ حرارت کے اچانک اتار چڑھاؤ (مثلاً اے سی والے کمرے سے فوراً دھوپ میں جانا) سے بچیں، صفائی کا خاص خیال رکھیں اور وقت پر ویکسینیشن کروائیں
یاد رکھیں، موسمی بیماریوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ علامات ظاہر ہوتے ہی آرام کریں اور اپنے جسم کو ری ہائیڈریٹ (پانی کی کمی پوری) کرنے پر توجہ دیں۔
موسمی تبدیلی کے دوران صحت کی حفاظت کے لیے مستقل اور متوازن طرز زندگی سب سے مؤثر ہے۔ اچانک یا غیر معمولی ”فکس“ کرنے کی کوشش کے بجائے روزانہ کی عادات پر دھیان دینا زیادہ فائدہ مند ہے۔